انوارالعلوم (جلد 8) — Page 543
۵۴۳ توریت کی پیشگوئی پوری ہوئی اس واقعہ کے چند ہی ماہ کے بعد آپ کو پھر وحی ہوئی جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ سب لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلائیں اور بدی کو دنیا سے مٹائیں اور شرک دور کریں اور نیکی اور تقویٰ کو قائم کریں اورظلم کو دور کریں- اس وحی کے ساتھ آپ کو نبوت کے مقام پر کھڑا کیا گیا اورآپ کے ذریعہ سے استثناء باب۱۸ آیت۱۸ کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ ’’میں تیرے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا‘‘- آپ بنواسماعیل میں سے تھے جو بنو اسرائیل کے بھائی تھے اور آپ اسی طرح ایک نیا قانون لے کر آئے جس طرح کہ حضرت موسیٰ ایک نیا قانون لے کر آئے تھے۔دعویٰ نبوت پر یگانے بیگانے ہوگئے رسول کریمؐ کو نبوت کا عہدہ ملنا تھا کہ یکدم آپ کے لئے دنیا بدل گئی- وہ لوگ جو پہلے محبت کرتے تھے نفرت کرنے لگے اور جو عزت کرتے تھے حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگے جو تعریف کرتے تھے مذمت کرنے لگے اور جو لوگ پہلے آپ کو آرام پہنچاتے تھے تکلیف پہنچانے لگے۔مگر چار آدمی جن کو آپ سے بہت زیادہ تعلق کا موقع ملا تھا وہ آپ پر ایمان لے آئے یعنی خدیجہؓ آپ کی بیوی، علیؓ آپ کے چچازاد بھائی اور زیدؓ آپ کے آزاد کردہ غلام اور ابوبکرؓ آپ کے دوست۔اور ان سب کے ایمان کی دلیل اس وقت یہی تھی کہ آپ جھوٹ نہیں بول سکتے- ان چاروں میں سے حضرت ابوبکرؓ کا ایمان لانا عجیب تر تھا۔جس وقت آپ کو وحی ہوئی کہ آپ نبوت کا دعویٰ کریں اس وقت حضرت ابوبکرؓ مکہ کے ایک رئیس کے گھر میں بیٹھے تھے- اس رئیس کی لونڈی آئی اور اس نے آکر بیان کیا کہ خدیجہ ؓکو آج معلوم نہیں کیا ہوگیا ہے- وہ کہتی ہیں کہ میرے خاوند اسی طرح نبی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ تھے- لوگ تو اس خبر پر ہنسنے لگے اور اس قسم کی باتیں کرنے والوں کو پاگل قرار دینے لگے مگر حضرت ابوبکرؓ جو رسول کریمؐ کے حالات سے بہت گہری واقفیت رکھتے تھے اسی وقت اُٹھ کر حضرت رسول کریمؐ کے دروازہ پر آئے اور پوچھا کہ کیا آپ نے کوئی دعویٰ کیا ہے؟ آپ نے بتایا کہ ہاں اﷲتعالیٰ نے مجھے دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے اور شرک کے مٹانے کا حکم دیا ہے- حضرت ابوبکرؓ نے بغیر اس کے کہ اور کوئی سوال کرتے جواب دیا کہ مجھے اپنے باپ کی اور ماں کی قسم! کہ تونے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور میں نہیں مان سکتا کہ تُو خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولے گا- پس میں ایمان لاتا ہوں کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول