انوارالعلوم (جلد 8) — Page 529
انوار العلوم جلد ۸ ۵۲۹ دورہ یورپ امیدیں دلائی جاتی تھیں کہ ان سے بہت سے فواکہ ہوں گے اور چونکہ چند سال پہلے سرگودھا اور لائل پور میں آبادی کی خاطر گورنمنٹ نے لوگوں کو مربعے دیئے تھے حتی کہ بعض دفعہ اس وجہ سے دیئے تھے کہ فلاں شخص نے گاؤں میں چیچک کا ٹیکہ لگوا دیا تھا ہر شخص جو جنگ کو جاتا تھا اسے یہ امید تھی کہ وہاں سے آتے ہی اسے کم سے کم ایک مربع زمین کا ضرور ملے گا۔ گورنمنٹ کے پاس اس قدر زمین نہ تھی کہ سب کو خوش کر سکے اس لئے واپس آنے والے سپاہیوں میں بے چینی پیدا ہو گئی اس عرصہ میں صلح کی تجویز شروع ہوئی اور تعلیم یافتہ ہندوستانی جو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ صلح کے ہوتے ہی بہت کچھ حقوق ہندوستان کو ملیں گے اس امید کے بر نہ آنے پر برافروختہ ہو گئے۔ اگر مختلف ناموں کے ماتحت بعض اور ڈومینز کو فائدہ نہ پہنچتا تو ہندوستانیوں کو اس قدر محسوس نہ ہوتا مگر چونکہ گو لفظ اقرار نہ کیا جاتا ہو مگر فی الواقع جنگ میں تعاون کی وجہ سے بہت سی نو آبادیوں کو فائدہ پہنچا اور اس کا ہندوستان پر بہت ہی برا اثر پڑا اور اس کا نقطہ نگاہ بدل گیا۔ رولٹ ایکٹ ہے اور تحریک خلافت ایسے بہانے بن گئے حصول سوراج کی خواہش جن کے ذریعہ سے پوشیدہ خواہشات جو ملک میں پیدا ہو رہی تھیں بیدار ہو گئیں اور ایک سرے سے دوسرے سرے تک لوگ سلف گورنمنٹ کی نہ پوری ہونے والی امید کے حصول کے لئے کھڑے ہو گئے اور تمام مذکورہ بالا امور نے اس خواہش میں عوام الناس کو بھی شامل کر دیا میرے نزدیک ہندوستان میں امن کبھی قائم نہیں ہو سکتا جب تک انگلستان کے لوگ ان امور کو مد نظر نہ رکھیں جو ہندوستان میں بے چینی پیدا کرنے کے موجب ہیں اور وہاں کی اصلی حالت سے واقف ہوں۔ اور میں آپ لوگوں کو بڑے زور سے اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اب سلف گورنمنٹ کی تحریک ہرگز شہروں اور تعلیم یافتہ لوگوں تک محمد ود نہیں ہے۔ بلکہ یہ تحریک گاؤں اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں میں پھیل گئی ہے۔ عورتیں جو ہندوستان میں بہت ہی کم تعلیم رکھتی ہیں وہ بھی اس سے واقف ہو گئی ہیں کیونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں جنگ نے ہر گاؤں کو طلباء پالیٹکس کا ایک سکول بنا دیا ہے۔ یہ بالکل درست ہے کہ عوام الناس اس امر کی حقیقت کو نہیں سمجھتی کہ سلف گورنمنٹ کی حقیقت کیا ہے مگر اس امر سے اس حقیقت میں کوئی فرق نہیں آتا کہ ملک کا بیشتر حصہ اس تحریک سے متفق ہے وہ سوراج ۲۵ کو جانتا ہے یا نہیں مگر وہ اس کو حاصل ضرور کرنا چاہتا ہے۔