انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 529

۵۲۹ امیدیں دلائی جاتی تھیں کہ ان کو بہت سے فوائد ہوں گے اور چونکہ چند سال پہلے سرگودھا اور لائل پور میں آبادی کی خاطر گورنمنٹ نے لوگوں کو مربعے دیئے تھے حتیّٰ کہ بعض دفعہ اس وجہ سے دیئے تھے کہ فلاں شخص نے گاؤں میں چیچک کا ٹیکا لگوایا تھا- ہر ایک شخص جو جنگ کو جاتا تھا اسے یہ امید تھی کہ وہاں سے آتے ہی اسے کم سے کم ایک مربع زمین کا ضرور ملے گا- گورنمنٹ کے پاس اس قدر زمین نہ تھی کہ سب کو خوش کرسکے اس لئے واپس آنے والے سپاہیوں میں بے چینی پیدا ہوگئی- اسی طرح جب صلح کی تجویز شروع ہوئی اور تعلیم یافتہ ہندوستانی جو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ صلح کے ہوتے ہی بہت کچھ ہندوستان کو مل جائیں گے اس امید کے بر نہ آنے پر برافروختہ ہوگئے- اگر مختلف ناموں کے ماتحت بعض اور ڈومینیز کو فائدہ نہ پہنچتا تو یہ ہندوستانیوں کو اس قدر محسوس نہ ہوتا مگر چونکہ گو لفظاً اقرار نہ کیا جاتاہو مگر فی الواقع جنگ میں تعاون کی وجہ سے بہت سی نوآبادیوں کو فائدہ پہنچا اور اس کا اثر ہندوستان پر بہت ہی برا پڑا اور اس کا نقطہ نگاہ بالکل بدل گیا- حصول سَوَراج کی خواہش رولٹ ایکٹ ۴۴؎ اور تحریک خلافت ایسے بہانے بن گئے جن کی وجہ سے پوشیدہ خواہشات جو ملک میں پیدا ہورہی تھیں بیدار ہوگئیں اور ایک سرے سے دوسرے تک لوگ سلف گورنمنٹ کی نہ پوری ہونے والی امید کے حصول کے لئے کھڑے ہوگئے اور تمام مذکورہ بالاامور نے اس خواہش میں عوام الناس کو بھی شامل کردیا میرے نزدیک ہندوستان میں امن کبھی قائم نہیں ہوسکتا جب تک انگلستان کے لوگ ان امور کو مدنظر نہ رکھیں جو ہندوستان میں بے چینی پیدا کرنے کا موجب ہیں اور وہاں کی اصل حالت سے واقف ہوں۔اور میں آپ لوگوں کو بڑے زور سے اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اب سلف گورنمنٹ کی تحریک صرف شہروں اور تعلیم یافتہ لوگوں تک محدود نہیں ہے۔بلکہ یہ تحریک گاؤں اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں میں پھیل گئی ہے- عورتیں جو ہندوستان میں بہت ہی کم تعلیم رکھتی ہیں وہ بھی اس سے واقف ہوگئی ہیں- چونکہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں جنگ نے ہر ایک گاؤں کو طلباءپا لیٹکس کا ایک سکول بنادیاہے- یہ بالکل درست ہے کہ عوام الناس اس امر کی حقیقت کو نہیں سمجھتی کہ سلف گورنمنٹ کی حقیقت کیا ہے مگر اس امر سے اس حقیقت میں کوئی فرق نہیں آتا کہ ملک کا بیشتر حصہ اس تحریک سے متفق ہے- وہ سَوَراج کو ۴۵؎ کوجانتا ہے یا نہیں جانتا مگر وہ اس کو حاصل ضرور کرنا چاہتا ہے-