انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 523

انوار العلوم جلد ۸ ۵۲۳ دورہ یورپ انسٹیٹیوٹ کی ممبری کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو سب سے پہلا سوال اس کے متعلق یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے علاقہ میں اس کی قوم کے اس قدر آدمی ہیں کہ اس کو جیتنے کی امید ہو۔ پچھلے الیکشن میں ہمارے ضلع سے سات آٹھ آدمی امیدوار کھڑے ہوئے تھے مگر وہی لوگ آخر تک رہ سکے جو قومی ووٹ رکھتے تھے۔ راجپوتوں نے راجپوت امیدواروں کو گوجروں نے گوجروں کو اور پٹھانوں نے پٹھان امیدوار کو ووٹ دیئے ۔ استثناء ہوتے ہیں مگر قانون یہی ہے۔ مذہبی حالت یہ ہے کہ ہندو مسلم کا سوال ہمیشہ زور پر رہتا ہے گو بعض لوگ ایسے مذہبی حالت ہوں کہ ملکی فائدہ کو قومی فائدہ پر مقدم کریں مگر کثرت سے لوگ ایسے ہی ہیں کہ مذہبی تعصب کو دور نہیں کر سکتے ۔ گورنمنٹ کے ہر صیغہ میں چھوٹے عہدوں کے متعلق جو مقامی طور پر دیئے جاتے ہیں یہ بات نظر آئے گی کہ مذہبی تعصب رونما ہو گا۔ مسلمان چونکہ تعلیم میں پیچھے رہ گئے تھے اس لئے لازما سرکاری ملازمت میں بھی کم تھے۔ اب تعلیم یافتہ مسلمان بہت کثرت سے مل سکتے ہیں۔ مگر ان کو ملازمت نہیں ملتی کیونکہ قومی تعصب ہمیشہ راستہ میں حائل ہو جاتا ہے۔ پنجاب میں مسلمانوں کی آبادی باون فیصدی سے بھی زیادہ ہے مگر سرکاری ملازمتوں میں وہ تیس فیصدی کے بھی حصہ دار نہیں ہیں۔ ٹیکنیکل کالجوں میں ان کو داخلہ کا موقع نہیں ملتا۔ جس وقت انگریزی حکومت کا سوال ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ عمدہ گورنمنٹ ، سلف گورنمنٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ مگر جس وقت ملازمت کا سوال ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اصل معیار لیاقت ہے۔ کسی قوم کو بحیثیت قوم کے حکومت میں کوئی حق نہیں ہے مگر لیاقت کی تعریف ایسی غیر معین ہے کہ دوسری قوموں کے آدمی اس کا وجود اپنی ذات میں ثابت ہی نہیں کر سکتے ۔ غرض سوائے نهایت محدود جماعت کے باقی لوگوں میں سخت تعصب کے آثار پائے جاتے ہیں۔ زبان کا سوال بھی نہایت پیچیدہ اور اہم ہے۔ سلف گورنمنٹ کے لئے ایک زبان کا سوال سرکاری زبان ہونا ضروری ہے۔ ہندوستان میں بیسیوں زبانیں ہیں علاوہ اردو کے جو پنجاب یوپی بہار حیدر آباد صوبہ سرحد میں توا تو اچھی طرح بولی اور سمجھی جاتی ہے باقی ہندوستان کے صوبوں میں بھی کم و بیش اس کا رواج ہے ہندی زبان ہے، بنگالی ہے ، سندھی ہے، تامل ہے ، ٹیلگو ہے، مالا باری ہے ، اڑیا ہے ، کشمیری ہے ، پشتو ہے ، مرہٹی ہے ، گجراتی ہے ان سب زبانوں میں سے اردو اور ہندی کے متعلق اختلاف ہے کہ کونسی زبان ملکی زبان ہونی چاہئے ہندو پورا زور لگاتے ہیں کہ ہندی زبان کو ملکی زبان قرار دیا جائے اور مسلمان اس بات پر مصر ہیں کہ