انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 516

انوار العلوم جلد ۸ ۵۱۶ دورہ یورپ روپے آئیں گے۔ کیا یہ اس پر ظلم ہو گایا نہیں؟ حضرت:۔ عورت اگر سمجھتی ہے کہ ظلم ہے تو اس کو اسلام نے خلع کرا لینے کا حق دیا ہے۔ علاوہ ازیں کیا اس کے ساتھ مرد کی ضروریات میں بھی کمی ہوگی یا نہیں؟ اور پھر اگر ایک عورت کے ہی چار بچے ہو جائیں تو وہ رقم تقسیم ہو جائیگی یا نہیں؟ عبدالحکیم : معمولی آمدنی کا آدمی جب دوسری شادی کرتا ہے تو بچوں کے اخراجات میں بھی کمی ہو جاتی ہے اور ان بچوں پر ظلم ہوتا ہے اور اس خاندان کا کلچر کمزور ہو جاتا ہے۔ حضرت:۔ اس کا جواب دو طرح ہے ۔ اول تو اگر بچے زیادہ ہو جائیں تو آپ کے اصول کے موافق اس کثرت سے ہی کلچر کمزور ہو گا اور پہلے بچے پر ظلم ہو گا۔ اس لئے اولاد پر کنٹرول ہونا چاہیے اور یہ طریق غلط ہے۔ دوسرے اسلام نے تعلیم کا بار حکومت پر رکھا ہے۔ حکومت کو یہ بار اُٹھانا چاہیے کیونکہ وہ بچے قومی طاقت کا جزو ہیں۔ عبدالحکیم :۔ کیا آپ کا مطلب یہ ہے کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم دلانا قوم کا حق ہے۔ حضرت: ہاں۔ عبدالحکیم:۔ گورنمنٹ کو رنمنٹ کو ٹیکس بڑھانے پڑیں گے اور لوگ جب تعلیمی بوجھ سے اپ اپنے آپ کو آزاد سمجھیں گے تو اولاد بڑھے گی۔ حضرت:۔ گورنمنٹ پر تعلیمی : پر تعلیمی بار سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ و وہ سب بوجھ اٹھائے۔ اتھ بلکہ جس قدر والدین اٹھائیں ان پر ڈالا جائے باقی حکومت کو اٹھانا چاہیے۔ اور اس کے لئے اگر ٹیکس لگانے پڑتے ہیں تو وہ قوم کی مشترکہ ضروریات اور بہتری کے لئے ہیں اس میں حرج کیا ہے؟ عبدالحکیم :۔ میرا سوال حل ہو گیا۔ مبلغین کا شادی کرنا ایک شخص:۔ میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ آپ کے مشنری یہاں آکر شادی کریں۔ حضرت:۔ میں مبلغین کے لئے یہ جائز نہیں رکھتا کہ وہ باہر جاکر شادی کریں۔ کیونکہ اگر وہ روپیہ کمانے کے لئے جاتے ہیں تو ان کی بیوی کو یہ تسلی ہوتی ہے کہ وہ روپیہ کما کر لائے گا۔ لیکن جب وہ تبلیغ کے لئے آتا ہے تو اسکی بیوی اس کے اس نیک مقصد کے لئے خود بہت بڑی قربانی کرتی ہے۔ اس لئے اگر وہ آکر شادی کرتا ہے تو وہ اس قربانی کی ہتک کرتا ہے جو اس کی بیوی نے کی