انوارالعلوم (جلد 8) — Page 517
۵۱۷ ہے۔پس اس کو بھی قربانی کرنی چاہیے اور میں نے بہ قاعده بنادیا ہے۔سائل:۔یہ بہت ہی اچھا قانون ہے۔ایک اور شخص۔اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ شادی کرلے اور پہلی بیوی کو شکایت ہو تو وہ کیا کرے۔حضرت:۔میں اپنی جماعت میں اگر ایسا دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے اچھا اور برابر کا سلوک نہیں کرتا تو خواہ اس کی بیوی شکایت بھی نہ کرے میں دخل دیتا ہوں اور بازپُرس کرتاہوں۔ایک شخص نے ایسا کیا اور اس کی بیوی نے بھی شکایت نہیں کی تھی مگر میرے علم میں جب اس کا سلوک آیا تو میں نے فوراً اس پر نوٹس لیا۔تعدّد ازدواج اور یتامیٰ عبدالحکیم: تعدّد ازواج کے سلسلہ میں ایک اور سوال ہے جہاں قرآن مجید نے اس کا علم دیا ہے وہاں یتامیٰ کا ذکر ہے۔اس سے کیا تعلق؟ دوسرے مسلمانوں نے اس کو عام کس طرح کرلیایعنی چار کی حد بندی کیو نکر کی جس انداز میں قرآن نے بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ معیّن نہیں کرتا بلکہ غیر معیّن ہے۔حضرت:۔بعض لوگوں نے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ حد بندی نہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ حد بندی کردی ہے اس لئے وہی معنی مقدم ہوں گے جو آنحضرتﷺنے کئے ہیں۔یتامیٰ کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔اس کے متعلق مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص کو دس یتیم بچے مل گئے۔اگر اس کے اپنے اور بچے بھی ہوں تو ایک عورت کہاں تک خدمت کر سکے گی ایسے موقع پر ضروری ہے کہ وہ دوسری شادی کرلے تاکہ سب کی ہو سکے۔یہ ایک صورت ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ خود ان یتامیٰ کی ماں سے شادی کرلے تاکہ وہ ان یتامیٰ کی پرورش میں پوری دلچسپی لے سکے۔کیونکہ ممکن ہے کہ پہلی بیوی کو انٹرسٹ (NTHEST) نہ ہو تو یہ تعلق اور جو ڑاس آیت کا ہے۔اور اس سے مقصد یتامیٰ کی صورتوں میں سے ایک کثرت ازدواج ہے۔حضرت جابرؓ کا واقعہ احادیث میں ہے کہ انہوں نے بڑی عمر کی عورت سے شادی کی۔اور آنحضرت ؐنے دریافت کیا تو انہوں نے وجہ یہ بتائی کہ میری بہنیں چھوٹی عمر کی تھیں، یہ ان کی خبر گیری کر سکے گی۔غرض یتامیٰ کے ساتھ دوسری شادی کا تعلق ہے۔عام اس کو اس طرح پر