انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 504

۵۰۴ طالب علم:- آخر وہ مسلمان ہیں۔حضرت اقدس:- آپ نے جب یہ اصل قائم کیا کہ جب تک مسلمان حکمران نیک کام کریں ان کی اطاعت کرنی چاہئے تو پھر اس اصل کو مخصوص تو نہیں کر سکتے کہ یہ صرف مسلمانوں کے متعلق ہے اور غیر مسلم کی حکومت اگر عدل وانصاف بھی کرے تو اس کی اطاعت نہ کی جائے۔حکومت میں اپنے پرائے کا سوال نہیں ہوتا بلکہ حقوق اور رعایا کا سوال ہوتا ہے۔دیکھو اس ملک میں انگریزوںہی کی حکومت ہے۔مگر کیا انگریز اس وجہ سے خوش ہوجائیں گے کہ ہمارے بھائی حکمران ہیں؟ نہیں بلکہ وہ اپنے حقوق مانگیں گے۔آئر لینڈ کا قضیہ آپ کے سامنے ہے تو حکومت میں جو سوال معرض بحث میں آتا ہے وہ رعایا کے حقوق کا سوال ہوتا ہے۔طالب علم :۔انگریزوں کا غیر ہونا آپ نے بھی تسلیم کرلیا ہے کیونکہ آپ ان کو دعوتِ اسلام دیتے ہیں۔جب ان کے سامنے اسلام پیش کیا جاتا ہے تو وہ غیر ہوئے۔حضرت اقدس:۔دعوت اسلام تو ہمارا فرض ہے ہم مسلمانوں کو بھی دعوت دیتے ہیں۔میں تو کہتا ہوں کہ حکومت کے ساتھ اس بات کا کوئی تعلق نہیں۔سوشل حقوق الگ ہوتے ہیں مذہبی الگ اور حکومت کے الگ اور ان میں جُداجُدا احکام ہوتے ہیں۔دیکھو انسان مختلف جوارح اور اعضاء کا مجموعہ ہے۔ہاتھ پاؤں وغیرہ سب کے سب مجموعی طور پر ایک حیثیت رکھتے ہیں مگر ان کے کام الگ الگ ہیں۔اسی طرح سوشل اور پولیٹیکل معاملات کا بھی ایک جد اجد ادائرہ ہے۔اگر ہم ان کو ملا کر بحث کریں گے تو غلط راستے پر جا پڑیں گے۔ہرایک دائرہ کے اندر رہ کر غور ہو سکتا ہے۔گورنمنٹ اور رعایا کے متعلق جو احکام ہیں ان کو اس نظر سے دیکھو ،سوشل اصولوں پر اسے نہ پرکھو یا کسی اور نقطہ خیال سے اس پر بحث نہ کرو۔آپ نے خود ایک اصل بتایا ہے کہ حکومت جب تک نیکی کے کام کرتی ہے، رعایا کی خبر گیری ،انصاف اور عدل کے اصولوں پر ہوتی ہے اور ان کے حقوق محفوظ ہیں تو ایسی حکومت کی اطاعت اور اسی سے وفاداری کرنی چاہئے۔پس جب تک حالات میں تغیر نہ ہو اس اصول کو کیوں چھوڑا جائے۔مذہب میں سیاست ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر جگہ سیاست کو دخل دیا جائے۔احکام اسلامی میں یہ بھی ایک اصل ہے کہ ان میں حالات کے بدلنے کے ساتھ استثناء ہو جاتا ہے۔مثلا ًوضو کرنے میں ہاتھ دھونا ضروری ہے لیکن جس شخص کے ہاتھ ہی نہ ہوں اس کے لئے ہاتھ دھونا ضروری نہیں۔میں جہاں تک سمجھتا ہوں آپ کا یہ سوال اصل سوال نہیں بلکہ آپ کے دل میں جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ فارن