انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 467

۴۶۷ دوره یو رپ اس کا میں مقِرّ ہوں اور میں اسے جائز سمجھتاہوں اور اس کا کئی بار اظہار کر چکا ہوں۔اس کے سوا مجھے جماعت کے روپیہ سے کوئی تعلق نہیں۔میں امیر آدمی نہیں ،بسا اوقات مجھے بیماری میں دواؤں اور ضروری لباس با اور ضروریات کے لئے سامان میسّر نہیں ہوتا تو میں نفس پر تکلیف برداشت کرلیتاہوں مگر اپنی حالت کو بھی ایسا نہیں بناتا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ مجھے کسی چیز کی ضرورت ہے۔کیونکہ میں سمجھتاہوں کہ یہ بھی ایک رنگ سوال کا ہے۔اگر باوجود ان حالات کے کوئی شخص میری طرف وہ بات منسوب کرتا ہے جن سے میں ایسا ہی دور ہوں جیسا کہ نور ظلمت سے تمہیں اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو تاہوں۔اور اس سے عرض کرتاہوں کہ اے میرے خدا!اے میرے خدا میں تیرا عاجز بندہ ہوں اور اپنے گناہوں کا مقرّ۔میں اپنی خطاؤں کی معافی کی امید میں ان لوگوں کے ظلموں کو معاف کرتا ہوں۔تو ان کی خطاؤں کو بھی معاف فرما اور میرے قصوروں سے بھی درگذر کر۔اور میرے دل کو صبر کی طاقت ہے کہ روح تو خوش ہے مگر جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔مولوی نعمت اللہ صاحب کی شہادت مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے ان الزامات کے جواب میں جو انہوں نے میرے سفر کے متعلق اب تک کئے ہیں آخری بات کہہ کر میں اس تکلیف دہ واقعہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو کابل میں ہوا ہے۔مولوی نعمت اللہ صاحب کی شہادت معمولی بات نہیں ہے۔کیونکہ افغانستان کے پہلے فعل اگر جہالت کے ماتحت تھے تو یہ دیدہ دانستہ ہے۔اب أفغانستان کی گورنمنٹ ہمارے اصول سے اچھی طرح واقف ہوگئی ہے۔اور اس کا یہ فعل نہایت قابل افسوس ہے۔مگر مسلمان لڑنے کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے لئے قربان ہونے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اس لئے ہمیں اپنے یالات کی رَو کو صلح اور امن کی طرف پھیرنا چاہیے نہ کہ بُغض اور فساد کی طرف۔بد پر رحم اور بدی سے نفرت ہمیں یہی تعلیم ہے کہ ہم کو چاہیے کہ بد پر رحم کریں اور بدی سے نفرت کریں۔بدی کو مٹائیں اور بد کو بچائیں۔پس ہمیں افغانستان کی گورنمنٹ اور اس کے فرمانروا کے خلاف دل میں بُغض نہیں رکھنا چاہئے بلکہ دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اب بھی ان کو ہدایت ہے۔بے شک یہ کام مشکل ہے۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ صبر مشکل ہے۔ہمیں جیسا کہ میں تار میں لکھ چکا ہوں اپنی پوری توجہ اس کام کے