انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 468

۴۶۸ دوره یو رپ جاری رکھنے کے لئے کرنی چاہیے جس کی خاطر مولوی نعمت اللہ صاحب نے جان دی ہے اور ہمیں ان لوگوں کی یاد کو تازہ رکھنا چاہئے تاکہ ہمارے تمام افراد میں قربانی کا جوش پیدا ہو۔شہیدوں کے کتبے ٍ میری رائے ہے کہ جس قدر سلسلہ کے شہید ہوں ان کے نام ایک کتہ پر لکھوائے جائیں اور اس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کی طرف لگوایا جائے تا وہ ہر ایک کی دعامیں شامل ہوتے رہیں۔اور ہر ایک کی نظر ان کے ناموں پر پڑتی رہے۔فی الحال اس کتبہ پر مولوی شہزادہ عبداللطیف صاحب اور مولوی نعمت الله صاحب کا نام ہو۔اگر آئندہ کسی کو یہ مقام عالی عطا ہو تو اس کا نام بھی اس کتبہ پر لکھا جائے۔تذکرة الشہداء ٍاسی طرح ایک کتاب تیار ہو جس میں تاریخی طور پر تمام شہداء کے حالات جمع ہوتے رہیں تاآئندہ نسلیں ان کے کارناموں پر مطلع ہوتی رہیں۔اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔افغانستان میں تبلیغ کا سوال اسی طرح ہمیں افغانستان میں تبلیغ اسلام کے سوال پر خاص غور کرنا چاہیئے۔وہاں کھلی تبلیغ کا دروازہ تو سرِدست بند ہے۔مگر ہمیں اس ملک کو ایک دن کے لئے بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔چاہئے کہ ہمارے مخلص دوست اپنے اپنے علاقوں میں جاکر وہاں سے بااثر خاندانوں کے نوجوانوں کو ہندوستان میں لاویں پھر قادیان میں ان کو کچھ عرصہ تک رکھاجاۓ اور ان کو سلسلہ سے واقف کر کے چھ سات ماہ کے بعد ان کے وطن واپس کردیا جائے۔جو شخص ایک ماہ بھی قادیان میں رہے گا اس کا بغیر احمدی ہونے کے واپس جانا بظاہر خلاف توقع ہے۔اور ہمیں یہی امید کرنی چاہیئے کہ ان میں سے سو فیصدی ہی احمدی ہو کر جائیں گے۔یہ لوگ جب واپس جاویں گے تو اپنے اپنے علاقہ کے لئے مبلغ کا کام دیں گے۔اور صرف اپنے رشتہ داروں میں تبلیغ کریں گے۔اس طرح چند سال میں ہی ایک معقول تعداد نو احمدیوں کی أفغانستان میں پیدا ہوجائے گی۔یہ ضروری ہے کہ ایسے لوگ مختلف علاقوں اور شہروں سے آئیں تا ایک ہی وقت میں سب طرف احمدیت کا اثر پھیل جائے۔اس کے لئے ہمیں تین چار آدمی مقرر کرنے چاہئیں جو ہر وقت افغانستان میں چکر لگاتے رہیں۔میں امید کرتاہوں کہ اگر افغانستان کے باشندوں میں سے جو اس کام کے پہلے حقدار ہیں ،اس بات کے لئے آدمی نہ ملیں تو پنجابیوں کو اور خصوصا ًسرحدوں کو اس کام کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔