انوارالعلوم (جلد 8) — Page 463
۴۶۳ دوره یو رپ انگلستان کے متعلق رؤیا اور اس کا پورا ہونا آپ لوگوں کو معلوم ہےکہ اس بادشاہ نے جس کے قبضہ میں تمام عالم کی باگ ہے مجھے رؤیامیں بتایا تھا کہ میں انگلستان میں گیا ہوں اور ایک فاتح جرنیل کی طرح اس میں داخل ہوا ہوں۔اور اس وقت میرا نام و لیم فاتح رکھا گیا۔۔میں جب شام میں بیمار ہوا اور بیماری بڑھتی گئی تو مجھے سب سے زیادہ خوف یہ تھا کہ کہیں میری شامتِ اعمال کی وجہ سے ایسے سامان نہ پیداہو جاویں۔کہ خدا تعالی کا وعدہ کسی اور صورت میں بدل جائے اور میں انگلستان میں پہنچ ہی نہ سکوں۔اور اس خوف کی وجہ یہ تھی کہ میں اس خواب کی بناء پر یقین رکھتا تھا کہ انگلستان کی روحانی فتح صرف میرے انگلستان جانے کے ساتھ وابستہ ہے۔لیکن آخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں انگلستان پہنچ گیا ہوں اور اب میرے نزدیک انگلستان کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔آسمان پر اس کی فتح کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور اپنے وقت پر اس کا علان زمین پر بھی ہوجائے گا۔دشمن ہنسے گا اور کہے گا یہ سیلے ثبوت دعویٰ تو ہراک کر سکتا ہے مگر اس کو ہنسنے دو کیونکہ وہ اندھا ہے اور حقیقت کو نہیں دکھ سکتا۔آتھم کے متعلق جب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی اور وہ مصلحت الہٰی کے ماتحت اور رنگ میں پوری ہوئی تو سب ہندوستان میں اس پر تمسخر کیا گیا۔اس وقت کے نواب صاحب بہاولپور کے دربار میں بھی اس کا ذکر ہو اور انہوں نے بھی اس کے غلط ہونے کی تائید میں رائے دی۔ان کے پیر خواجہ غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ چاچڑاں والے اس وقت دربار میں موجود تھے۔اس بات کو سن کر جوش میں آگئے اور فرمایا کہ جو یہ کہتا ہے کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی جھوٹی نکلی وہ غلط کہتا ہے۔آتھم مر چکا۔مجھے وہ مردہ نظر آرہا ہے۔دنیا کے کیڑوں کو وہ زندہ نظر آتا ہے۔انگلستان کے فتح ہونے کی شرط پوری ہوگئی ٍ میں بھی کہتا ہوں انگلستان فتح ہو چکا ،خدا کا وعدہ پورا ہوگیا۔اس کی فتح کی شرط آسمان پر یہ مقرر تھی کہ میں انگشتان آؤں ،سومیں خدا کے فضل سے انگلستان پہنچ گیاہوں۔اب اس کارروائی کی ابتداء إنشاءالله شروع ہوجائے گی۔اور اپنے وقت پر دوسرے لوگ بھی انشاء الله دیکھ لیں گے کہ جو کچھ میں نے لکھا تھا وہ سچ ہے۔نادان لوگ نہیں جانتے کہ بعض امور کا تعلق بعض خاص شخصوں کی ذات سے وابستہ ہوتا ہے۔اور انگلستان میں ترقی اسلام کا سوال خدا تعالی کی قضاء میں میرے انگلستان آنے کے ساتھ متعلق تھا۔