انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 464

۴۶۴ دوره یو رپ مسیح موعودؑ کو جو رؤیادکھائی گئی اس میں بھی یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کے ولایت جانے پر یہ فتح شروع ہوگی اور مجھے بھی یہی دکھایا گیا۔اور چونکہ نبیوں کے خلیفہ ان کے ہی وجود سمجھے جاتے ہیں اس لیے دونوں خوابوں کا مطلب ایک ہی تھا۔حضرت مسیح موعودؑ کی رؤیا سے مراد بھی ان کے جانشین کے انگلستان جانے سے تھی۔اور میری رؤیا سے مراد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ولایت جانے سے بھی ہیں جبکہ مسیح موعودؑ اپنے روحانی جانشین کے ذریعہ سے انگلستان پہنچ گئے تو اب انشاء الله اس فتح کا دروازہ بھی کھول دیا جائے گا جو کہ ہمیشہ سے مقدر ہے۔خداتعالی کی سنت ہے کہ جب کسی پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آتا ہے تو پھر اس کی طرف توجہ دلادیا کرتا ہے۔اور میں سمجھتاہوں کہ میں نے جو خواب میں دیکھا کہ میں انگلستان میں گیا ہوں اس سے مراد یہی تھی کہ مسیح موعودؑ کی ’’ ازالہ اوہام‘‘ والی رؤیا کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔فالحمد لله اليري آرانا ما وعدنا على إيمان المسيح عليه السلام مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کا اعتراض اور اس کا جواب ٍمولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کو اعتراض ہے کہ اس سفر پر اس قدر خرچ کیوں کیا ہے۔اور غالباً اسی وجہ سے اعتراض ہے کہ ان کو خیال ہے میں نے یہ سفر سیر و سیاحت کی وجہ سے اختیار کیا ہے۔میں ان کو بتانا چاہتاہوں کہ یہ درست نہیں۔افسوس ہے کہ اب یہ امر مشکل ہے ورنہ میں ان کو کہتا کہ میرے خرچ پر میرے ساتھ چلیں اور میری زندگی کا مطالعہ کریں۔اور پھر مؤمنانہ طور پر تجربہ کے بعد میرے متعلق رائے دیں۔اگر وہ ساتھ ہوتے تو ان کو معلوم ہو جاتا کہ خود غیر احمدی لوگ اور انگلستان کے واقف لوگ بھی ہمیں نصیحت کرتے ہیں کہ اس قدر کام اچھا نہیں ہے۔صحت کا خیال بھی رکھنا چاہیے۔آج لنڈن پہنچے بیس دن ہو گئے ہیں۔اور ہمارے نزدیک لنڈن ابھی ویسا ہی ہے جیسا کہ ہندوستان میں تھا۔نہ ہمیں اس کی عمارتوں کا پتہ ہے اور نہ اس کے عجائبات کا۔جو کچھ ہمیں معلوم ہے وہ یہاں کے آدمی ہیں جو ملنے کے لئے آجاتے ہیں یا وہ نظارہ ہے جو ہوا خوری کے لئے جاتے ہوئے راستہ میں نظر آجاتا ہے۔اور میں امید کرتا ہوں کہ مولوی محمد علی صاحب باوجود سخت دشمنی اور تعصّب کے یہ امید نہیں کریں گے کہ ہم لوگ اگر چوتھے پانچویں دن سیر کے لئے نکلیں یا پٹنی کے مکان کی طرف جمعہ کی نماز کے لئے جاویں تو ہمیں آنکھیں بند کر کے چلنا چاہیے کہ کہیں ہمارا سفر تفریح کا سفر نہ بن جائے۔