انوارالعلوم (جلد 8) — Page 441
انوار العلوم جلد ۸ ۴۴۱ دورہ یورپ وقت کم ہے اور کام زیادہ ساتھیوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصہ اخبارات و جرائد کے مدیروں کے ملنے میں مشغول ہوا۔ اور دوسرا پاسپورٹوں اور ڈاک کے متعلق کام میں لگ گیا تیسرا سفر کی بعض ضرورتوں کے مہیا کرنے میں ۔ قاہرہ میں گرانی قاہرہ نہایت گراں شہر ہے ۔ تین بکسوں کے تالے خراب تھے ۔ ان کے درست کرانے پر سترہ روپے لگے۔ ہندوستان میں ایک روپیہ سے زائد غالباً نہ لگتا۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہاں کا تمدن بالکل یورپ کی طرح کا ہے۔ اور اگر ہم یہاں مضبوط مشن قائم کریں تو اس پر اسی قدر خرچ ہو گا جیسا کہ یورپین بلاد کے مشنوں پر ۔ ریل کا قلی سارے ملک مصر میں بلکہ فلسطین اور شام میں بھی پانچ آنے فی بکس ریل سے اتارنے کے لیتا ہے۔ ہمارے ملک میں دو پیسے تھے۔ اب سنا ہے ایک آنہ ہو گیا ہے۔ میں نے کئی لوگوں کو دو پیسہ پر بھی لڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہاں پانچ آنے لیکر بھی بخشیش کا سوال درمیان ہی میں رہتا ہے۔ مگر ایسا نہ ہو کوئی صاحب اس بات کو پڑھ کر ادھر کا رخ کر بیٹھیں کہ یہ مزدوری اچھی ہے۔ بے شک مزدوری اچھی ہے مگر صرف انہی ملکوں کے باشندوں کے لئے۔ ہندوستانی غرباء یہاں بہت تنگ حال ہیں اور ان کو مزدوری نہیں دی جاتی۔ اِدھر اُدھر لوگوں کے ساتھ پھر کر گزارہ کر لیتے ہیں۔ اور ہندوستان کے لئے موجب عار ہیں ۔ ایک فن کا آدمی میرے نزدیک یہاں کما سکتا ہے اور وہ دھوبی ہے۔ یہاں کے لوگ ہندوستانی دھوبیوں کا فن نہیں جانتے۔ بھٹی کا طریق رائج نہیں ۔ سوائے انگریزی کارخانوں کے دھلائی پانچ آنے سے آٹھ آنے تک قمیص پاجامے کی قسم کے کپڑوں کی ہے۔ کوٹ وغیرہ کی اور بھی زیادہ خلاصہ یہ ہے کہ یہ علاقے تبلیغ کے لئے بہت روپیہ چاہتے ہیں مگر اسی طرح جب ان میں تبلیغ کامیاب ہو جائے تو اشاعتِ اسلام کے لئے ان سے مدد بھی بہت کچھ مل سکتی ہے۔ اور یورپ سے تبلیغ یہاں آسان ہے۔ کیونکہ اسلام کی طرف منسوب ہیں اور اسلام سے محبت پہلے سے ہے۔ مصر کی پارٹیاں میں لکھ چکا ہوں کہ میں نے بعض دوستوں کو اخبارات کے ایڈیٹروں کے پاس بھیجا تھا۔ مصر میں تین پارٹیاں ہیں ۔ ایک سعید زغلول پاشا کی جو موجودہ وزیر اعظم ہیں۔ ایک وطنیوں کی اور ایک حزب الاحرار الاحر کی۔ ان میں سے وطنی و جن کے لیڈر عبدالعزیز پاشا ویلش ہیں جو سعید زغلول پاشا کے قتل کی سازش کی تحقیقات کی ضمن میں قید ہیں ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ اخبار اللواء کی یاد گار ہیں جس نے حضرت