انوارالعلوم (جلد 8) — Page 435
انوار العلوم جلد ۸ ۴۳۵ دورہ یورپ مطابق ہے۔ نبیوں کے جانشین چونکہ نبیوں کے قائم مقام ہوتے ہیں ان کا کام نبیوں کا کام ہی کہلاتا ہے ۔ پس خلیفہ مسیح موعود کا جانا ایسا ہی ہے جیسے کہ خود مسیح موعود کا جانا۔ پس یہ سفر در حقیقت ایک پیشگوئی کے ماتحت ہے جو ایسی اہم ہے کہ قرآن کریم میں اس کو بیان فرمایا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سفر تبلیغ کے لئے نہیں بلکہ تبلیغ کے متعلق اصول طے کرنے اور علم حاصل کرنے کے لئے کیا جائیگا۔ کیونکہ اگر تبلیغ کے لئے سفر ہوتا تو یہ نہ کہا جاتا کہ اب خواہ ان کو ہلاک کر خواہ ان کی بھلائی کی تدبیر کر ۔ کیونکہ جو شخص تبلیغ کے لئے جاتا۔ ہے یہ سمجھ کر جاتا ہے کہ یہ لوگ بچائے جانے کے قابل ہیں ۔ نہ کہ وہ جاتا تو تبلیغ کے لئے ہے اور سوچنے لگ جاتا ہے کہ میں ان کو ہلاک کردوں۔ پس صاف ظاہر ہے کہ مسیح موعودیا آپ کا جانشین خالی الذہن ہو کر جائے گا اور وہی جا کر فیصلہ کرے گا کہ ان لوگوں سے کیا کیا جائے۔ اور اللہ تعالٰی اسکو اختیار دے گا کہ وہ کامل غور اور فکر کے بعد جو چاہے کرے۔ خواہ توان کو اپنے کفر میں چھوڑ دے تاکہ اس دنیا میں کفر کے عذاب میں مبتلا رہیں اور اگلے جہان میں دوزخ اور خدا تعالیٰ سے بعد کے عذاب میں مبتلا ہوں۔ اور یا پھر ان میں تبلیغ کو جاری کرنے کا فیصلہ کرے اور ان کی بہتری کی تجویز کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نتیجہ پر وہ پہنچے گا وہ بین بین ہو گا۔ اور اس میں مختلف حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف تدابیر کو اختیار کیا جائے گا۔ وہ فیصلہ کیا ہو گا اسے اللہ تعالیٰ نے مخفی رکھا ہے۔ اور چونکہ ابھی وقت نہیں آیا وہ مجھ پر ظاہر نہیں ہے، اس لئے میں اس کا اعلان نہیں کر سکتا۔ ہاں اصول اللہ تعالیٰ نے بتا دیئے ہیں اور میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے یہ کام لے اور اس پیشگوئی کا ظلی طور پر مجھے مصداق بننے کا موقع دے۔ غرض اے بھائیو! مسیح موعود یا ان کے کسی جانشین کا مغربی ممالک میں جانے اور وہاں جاکر ان کے متعلق آئندہ تبلیغ کے متعلق رائے قائم کرنے کی خبر قرآن کریم میں دی گئی ہے۔ اور گویا تمام سفر کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے جو اس وقت پیش آیا ہے۔ سفر یورپ مسیح موعود کی صداقت کانشان اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ایک عظیم الشان ثبوت ہے۔ کیونکہ یہ سفر بالکل خدا تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت ہوا ہے۔ کسے چند ماہ پہلے اس سفر کا خیال بھی تھا اور پھر کس کو معلوم تھا کہ اس تحریک کے ہونے کے بعد باوجود سخت طبیعت میں بیزاری ہونے کے میں اس سفر پر جانے پر راضی ہو جاؤں گا۔ اور جماعت کی نوے فیصدی رائے یعنی ہر دس