انوارالعلوم (جلد 8) — Page 436
۴۳۶ دوره یو رپ انجمنوں میں سے نو (۹) انجمنیں اس امر کی رائے دیں گی کہ مجھے ولایت جانا چاہیے۔اور پھر کس کو یہ خیال ہو سکتا تھا کہ اس قدر جلد سامان بھی جمع ہو جائے گا۔پس احباب کو چاہئے کہ سفر کی جو غرض ہے اور جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے ،اس کو یاد رکھیں۔کیونکہ اس کے یاد رکھنے میں ہی اسلام کی نجات ہے اور اس کے بُھلا دینے میں اسلام کی تباہی۔اگر آپ لوگ اس کام کی اہمیت کو جو میں نے اوپر بیان کی ہے یاد رکھیں گے تو اس کے خطرات کے ازالہ کی طرف بھی آپ کو توجہ رہے گی۔اور اگر آپ صرف زید اور بکر کے مسلمان کرنے کی خوشی میں رہیں گے تو سخت خطرہ ہےکہ ایمان برباد ہوجائے اور اسلام مٹ جاۓ العياذ بالله – سفر کی غرض کو پورا کرنا خدا ہی کا کام ہے اے بھائیو! اصل غرض سفر کی تفصیل سے بیان کر دینے کے بعد میں آپ سے پوچھتاہوں کہ کیا اس غرض کو پورا کرنا انسان کا کام ہے؟ اس انگریز نے سچ کہا۔جس نے اس سفر کو سمندروں کی لہروں پر حکومت کرنے کے خیال کے مترادف بتایا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام ایسا ہی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔اور اس کے کئی نتائج بظاہر کم سے کم ایک صدی کا وقت چاہتے ہیں سوائے اس کے کہ خداتعالی رحم کر کے ہماری زندگیوں میں یہ نظارہ ہمیں دکھادے کہ مغرب میں اسلام پھیلے اور اسلام اس طرح پھیلے کہ وہ لوگ اسلام کو اپنے مطابق نہ بنائیں بلکہ اسلام کے مطابق خود بن جاویں۔اور ایسی سکیم تیار ہو جائے کہ جس کے بعد اس بات کا خطرہ نہ رہے کہ مغربی تمدن اسلام کے اندر تغیّر کر سکے گا۔پس اس کام کے لئے آپ لوگ جس قدر دعائیں کریں تھوڑی ہیں۔بے شک آپ لوگ یہ دعا کریں کہ اس سفر میں تبلیغ کا بھی کوئی پہلو پورا ہو جائے تو کچھ حرج نہیں۔مگر اصل زور دعا میں اس امر پر ہونا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ وہ تدبیریں سمجھادے کہ جن کی مدد سے یورپ کو حقیقی طور پر اسلام میں داخل کیا جاسکے۔اور اسلام پورپ کے تمدن کے ایسے اثر سے جو اسلام کی حقیقت کے خلاف ہو محفوظ رہے۔دعا کی تحریک پھر میں کہتا ہوں کہ اپنی دعاؤں میں ہم تیرہ (۱۳) آدمیوں کو جو سفر جارہے ہیں یاد رکھیں جن میں سے نو(۹ )تو وہ ہیں جو جماعت کے خرچ پر وفد کے طور پر جارہے ہیں اور ہم چار آدمی اپنے خرچ پر سفر کررہے ہیں۔غرض سب کی ایک ہی ہے کہ خداتعالی کوئی کام لے لے اور عاقبت بخیر ہوجائے اور وہ یا ریگانہ خوش ہو جائے۔طبیعت میری بہت کمزور