انوارالعلوم (جلد 8) — Page 428
انوار العلوم جلد ۸ ۴۲۸ دورہ یورپ وجاہت کا اثر وجاہت کا دنیا میں بڑا اثر ہوتا ہے اپنے اندر ہی دیکھ لو خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کو وجاہت حاصل تھی ۔ جماعت کے ایک حصہ کو انہوں نے کس طرح تباہ کر دیا۔ بعض لوگ واقعہ میں مخلص تھے اور حضرت مسیح موعود کے دعووں پر ایمان رکھتے تھے ۔ مگر ان کی وجاہت کے اثر کے نیچے جن باتوں کو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہیں انہوں نے بھی کہہ دیا ٹھیک ہے۔ اگر یورپ کے مالدار اور فلاسفر مسلمان ہو گئے اور دنیا کی شان و شوکت نے مسلمانوں کی آنکھوں کو چندھیا دیا ۔ تو اس وقت اگر یورپ کے نو مسلموں نے کہا کہ پردہ سے مراد خدا تعالی کی یہ پردہ نہیں ہو سکتا تھا بلکہ اس سے مراد صرف اس وقت کی ضرورتوں کا پورا کرنا اور بعض فسادوں سے بچنا تھا تو تمام عالم اسلام کہے گا کہ سبحان اللہ کیا نکتہ نکالا ہے۔ اور اگر اس نے یہ کہا کہ سود سے مراد بھی صرف وہ قرض ہے جو مصیبت زدہ لیتا ہے اس کو بے شک سود کہہ دینا چاہیے۔ لیکن جو روپیہ لوگ تجارتوں اور جائدادوں کے بڑھانے کے لئے لیتے ہیں اس پر کیوں روپیہ قرض دینے والا نفع نہ لے یہ سود نہیں ۔ تو سب لوگ کہیں گے کہ واہ واہ نہایت پر حکمت بات نکالی ہے۔ پس ہم دو آگوں میں ہیں ۔ اگر ہم یورپ کو مسلمان نہیں کرتے تب اسلام خطرہ میں ہے اور اگر ہم اسے مسلمان کرتے ہیں تب بھی اسلام خطرہ میں ہے۔ پس ہمارا فرض ہے کہ اس مسئلہ پر جس قدر بھی غور کیا جائے عقل حیران ہوتی جاتی ہے۔ ہر ممکن پہلو سے غور کریں اور کوئی ایسی تدبیر نکالیں جس سے یہ دقتیں دور ہوں ۔ اور مغربی ممالک اسلام کو قبول بھی کر لیں اور اسلام کی اصلی شکل کو بھی نقصان نہ پہنچے۔ میں فرق چونکہ مسلمانوں میں سے کام کے نظام اور کام میں عموماً اور ہندوستان سے خصوصاً حکومت جاتی رہی ہے۔ اور اس وجہ سے ہی حکومت کی روح بھی نہیں رہی اس لئے لوگ ان باتوں کے سمجھنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ وہ اس امر کو تو سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی کام عارضی طور پر کر کے ہم اس سے فائدہ اٹھالیں لیکن وہ اس امر کو نہیں سمجھ سکتے کہ ایک کام یہ بھی ہوتا ہے کہ کام کے کرنے کے طریق کا فیصلہ کیا جائے۔ ان کے نزدیک یہ بات ہر شخص فوراً سمجھ سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایشیائی لوگ ہمیشہ اپنی کوششوں میں ناکام رہتے ہیں۔ مغربی لوگ جو کام شروع کرتے ہیں پہلے اس کام کے سب پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں اور اس کی مشکلات کو حل کرنے کی تدبیریں سوچتے ہیں پھر اس کام کو کرتے ہیں اور اس وجہ سے اکثر کامیاب بھی ہوتے ہیں جب تک یہ مرض ایشیائیوں کے دل سے دور نہ ہوگی کہ