انوارالعلوم (جلد 8) — Page 429
۴۲۹ دوره یو رپ ایک منٹ کے فکر کے بعد جو خیال ان کے دل میں آجائے وہ سکیم نہیں کہلاتی۔بہت سی باریک باتیں ہوتی ہیں جو لمبے غور اور بڑے تجربہ سے معلوم ہوتی ہیں اس وقت تک وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ایک عام بیماری ہمارے ملک میں یہ عام بیماری ہے کہ ایک شخص جو عمر بھر کسی کام میں صرف کر دیتا ہے، اس کی رائے کے مقابلہ میں ایک ناتجربہ کار آدمی جھٹ اپنی رائے کو پیش کر دے گا اور سمجھ لے گا کہ دو منٹ بات سن کر میں نے سب باتیں معلوم کرلی ہیں۔اور یہ بیماری اس خیال کا نتیجہ ہے کہ وہ کام کے نظام اور کام میں فرق نہیں سمجھ سکتے۔کام معمولی آدمی بھی کر سکتے ہیں مگر کاموں کا نظام صرف بہت بڑے ماہر بہت غور کے بعد تجویز کر سکتے ہیں۔ایک عمارت کا نقشہ ایک ماہر فن تجویز کرتا ہے اور بنا ایک مستری بھی لیتا ہے۔سفر کی غرض پر انگریزوں کو تعجب خلاصہ یہ کہ ہمارے کام کی مشکلات میں سے ایک یہ مشکل ہے کہ اس کی اہمیت کے لوگ نہیں سمجھ کئے۔حتیّٰ کہ ابھی اپنی جماعت کے بعض لوگ بھی اس کو نہیں سمجھ سکتے۔مگر یورپ کے لوگ فورا ًسمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ ان کاموں کے عادی ہیں۔اس قدر عرصہ سے ہم یورپ میں تبلیغ کر رہے ہیں کبھی اس پر انگریزوں نے تعجب نہیں کیا۔لیکن میرے سفر کی غرض معلوم کر کے تمام تعجب کر رہے ہیں۔مکرمی ذوالفقار علی خاں صاحب ایک کام کے لئے پچھلے دنوں شملہ گئے تھے وہاں گورنمنٹ کے مختلف انگریز دوزراء سے ان کی گفتگو ہوئی ،وہ شوق سے اس سفر کی غرض دریافت کرتے اور جب غرض کو معلوم کرتے تو سخت حیرت کا اظہار کرتے اور میری نسبت پوچھتے کہ کیا وہ اس کام کو ممکن خیال کرتے ہیں بلکہ ایک وزیر نے تعجب سے کہا کہ کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ یورپ مسلمان ہو کر پردہ کو بھی تسلیم کرلے گا یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔جہاز پر جو انگریز اس کو سنتا ہے، سخت تعجب کرتا ہے۔ایک انگریز سے بعض دوستوں کی گفتگو ہوئی جب اس نے سفرکی وجہ سنی تو حیران ہو کر پوچھنے لگا کہ کیا آپ کو ’’کے نیوٹ‘‘ کا قصہ معلوم ہے؟ انہوں نے کہا۔ہاں! تو کہنے لگا یہ ویسی ہی بات ہے ایک بادشاہ کا قصہ کے نیوٹ ایک انگریز بادشاہ تھا۔اس کو خدا تعالی نے بہت اقبال دیا تھا۔ایک دن سمندر کے کنارے بیٹھا تھا اس کے درباریوں نے خوشامد کے طور پر کہنا شروع کیا کہ تمہاری حکومت تو زمین اور سمندر بھی مانتے ہیں۔وہ دانا بادشاه