انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 426

انوار العلوم جلد ۸ ۴۲۶ دورہ یورپ پریاسٹور کا یا گردن مروڑے ہوئے مرغ کا ہوتا تھایا ایک تھالی گائے کے گوشت کی جو وہ بھی ہندوستانی طریق خوراک کے خلاف یہ گوشت چونکہ بمبئی کا خریدا ہوا تھا اس کا کھانا تو جائز تھا مگر وہ عام طور پر کھٹاس میں پکایا ہوا ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے ہمارے لئے کھانا اس کا بہت مشکل تھا۔ باقی اُبلے ہوئے آلو اور اُبلی ہوئی پھلیاں تھیں۔ جن کو بلا اعتراض کے کھایا جاسکتا تھا۔ ان حالات میں جو تکلیف تمام قافلہ کو پہنچی اس کا اندازہ ہمارے دوست نہیں کر سکتے۔ دوستوں کی حالت اور دل توڑ دینے والانظارہ بعض کمزور طبیعت دوست تو رو پڑے اور بعض کو میں دیکھتا تھا کہ ان کے چہروں پر جھریاں پڑ گئیں اور بوڑھے معلوم ہونے لگے۔ میں کسی وقت ہمت کر کے دوستوں کی ہمت بڑھانے کے لئے کمرے سے نفس پر زور کر کے باہر چلا جاتا تو سب دوست خوشی سے میرے گرد اکٹھے ہو جاتے۔ مگر جس طریق سے وہ اکٹھے ہوتے تھے وہ خود دل کو توڑ دینے والا تھا۔ وہ دوست جو میرے ساتھ تین چار دن پہلے اچھے بھلے اور تندرست سوار ہوئے تھے جب میں دیکھتا کہ وہ گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے جس طرح اپانچ چلتا ہے میری طرف آتے تھے اور آکر میرے پاس اس طرح لیٹ جاتے جس طرح زخمی پڑے ہوئے ہوتے ہیں تو میرا خدا ہی جانتا ہے کہ میرے دل پر اس نظارہ کا کیا اثر ہوتا تھا۔ یہ حالت چار دن تک تو بہت شدت سے رہی اور پانچویں دن بھی کافی سخت تھی گو زور کم ہونا شروع ہو گیا تھا۔ طوفان ان پانچ دنوں میں ایسا سخت رہا کہ جہاز کے عادی ملاح بھی نصف کے قریب بیمار ہو گئے اور افسر اس قدر گھبرا گئے کہ جب کپتان جہاز سے پوچھا گیا کہ عدن کب پہنچیں گے ۔ تو اس نے ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف اٹھا دیئے اور آنکھیں آسمان کی طرف اٹھادیں جس کا مطلب یہ تھا کہ خدا ہی پہنچائے گا۔ لہر اتنی اونچی تھی کہ میں جہاز کی اوپر کی چھت پر لیٹا ہوا تھا اور کمرے کے اندر تھا کہ ایک لہر بارہ گز اونچی اُٹھ کر چھت پر اگری۔ اور کمرہ کے اندر مجھ پر آکر گری جس سے میں تربہ تر ہو گیا کئی تختے ٹوٹ گئے۔ میری طبیعت پر پہلی سخت اور بعد کی تکلیف کا یہ اثر ہوا کہ میرا حلق بالکل بیٹھ گیا دن میں تین دفعہ دوائی لگائی جاتی ہے اور کئی دفعہ پلائی جاتی ہے مگر کوئی اثر نہیں۔ گلے میں شدید درد ہے اور ساتھ ہی بخار بھی شروع ہو گیا ہے ۔ ہلکا ہلکا بخار دن بھر رہتا ہے ۔ سر میں بھی درد رہتا ہے اور طبیعت روز بروز گھلتی جاتی ہے اور آگے کام کا پہاڑ نظر آتا ہے اور سفر کی شدائد ابھی باقی ہیں۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔