انوارالعلوم (جلد 8) — Page 419
انوار العلوم جلد ۸ ۴۱۹ دورہ یورپ کیسا اندوہناک تھا، کیسا حیرت خیز تھا وہ دل جو اس محبت سے نا آشنا ہے جو مجھے احمدی جماعت سے ہے اور وہ دل جو اس محبت سے نا آشنا ہے جو احمدی جماعت کو مجھ سے ہے وہ اس حالت کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ اور کون ہے جو اس درد سے آشنا ہو جس میں ہم شریک ہیں کہ وہ اس کیفیت کو سمجھ سکے ۔ لوگ کہیں گے کہ جدائی روز ہوتی ہے اور علیحد گی زمانے کے خواص میں سے ہے۔ مگر کون اندھے کو سورج دکھائے اور بہرے کو آواز کی دلکشی سے آگاہ کرے۔ اس نے کب لِلہ اور فی اللہ محبت کا مزہ چکھا کہ وہ اس لطف اور درد کو محسوس کرے۔ اس نے کب اس پیالہ کو پیا کہ وہ اس کی مست کر دینے والی کیفیت سے آگاہ ہو ۔ دُنیا میں لیڈر بھی ہیں اور ان کے پیرو بھی ، عاشق بھی ہیں اور ان کے معشوق بھی ، محب بھی ہیں اور ان کے محبوب بھی مگر ہر گلی را رنگ و بُوئے دیگر است کب ان کو اُس ہاتھ نے تاگے میں پرویا جس نے ہمیں پرویا۔ آہ! نادان کیا جانیں کہ خدا کے پروئے ہوؤں اور بندوں کے پروئے ہوؤں میں فرق ہوتے ہیں۔ بندہ لاکھ پروئے پھر بھی سب موتی جدا کے جدا رہتے ہیں مگر خدا کے پروئے ہوئے موتی کبھی جدا نہیں ہوتے ۔ وہ اس دنیا میں بھی اکٹھے رہتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی اکٹھے ہی رکھے جاتے ہیں۔ پھر ان کے دلوں کے اتصال اور ان کے قلوب کی یگانگت پر کسی اور جماعت یا اور تعلق کا قیاس کرنا نادانی نہیں تو اور کیا ہے ۔ ہے ۔ غرض کہ اس سفر نے اس پوشیدہ محبت کو جو احمدی جماعت کو مجھ سے تھی اور جو مجھے ان سے تھی نکال کر باہر کر دیا اور ہمارے چھے ہوئے راز ظاہر ہو گئے۔ اور ان کا ظاہر ہونے کا حق بھی تھا۔ نہاں کے ماند آن رازی کزو سازند محفلها اے عزیزو! میں آپ سے دور ہوں ، جسم دور ہے مگر روح نہیں۔ میرا جسم کا ذرہ ذرہ اور میری روح کی ہر طاقت تمہارے لیے دعا میں مشغول ہے اور سوتے جاگتے میرا دل تمہاری بھلائی کی فکر میں ہے۔ میں اپنے مقصد کے متعلق جہاز میں ہی ایک حصہ کا فیصلہ کر چکا ہوں اور اپنے وقت پر اس کو ظاہر کروں گا۔ مگر میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مجھے جس قدر ہندوستان میں یقین تھا کہ اگر اسلام پھیل سکتا ہے تو آپ لوگوں کے ذریعہ سے اب اس سے بہت زیادہ یقین ہے۔ آہ! تم ہی وہ خدا کا عرش ہو جس پر سے خدا تعالی حکومت کر رہا ہے۔ تم کو خدا نے نور دیا ہے جبکہ دنیا اندھیروں میں ہے تم کو خدا نے ہمت دی ہے جبکہ دنیا مایوسیوں کا شکار ہو رہی ہے ، تم کو خداتعالی نے برکت دی ہے جبکہ دنیا اس کے غضب کو اپنے پر نازل کر رہی ہے۔ اور کیوں نہ ہو تم خدا کی