انوارالعلوم (جلد 8) — Page 409
۴۰۹ دوره یورپ نہیں لاتے‘‘ ۱۱؎ اس سے مسیح کی صرف یہ مراد نہیں تھی کہ میری نسبت کوئی جھوٹ ثابت نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ تھی کہ تم خوب جانتے ہو کہ میری زندگی ایسی ہے کہ ایسی بات کا کہنا میرے لئے ناممکن ہے جو سچی نہ ہو۔مسیح موعود نے اس سے زیادہ صاف اور زیادہ پُر زور دعویٰ فرمایا ہے خدا نے آپ کو کہا کہ اپنے دشمنوں سے پوچھ کہ میری تمام زندگی کو دیکھتے ہوئے کبھی تم کیوں مجھے ملحد کہنے سے نہیں رُکتے۔اور پھر تنبیہ کے طور پر خدا فرماتا ہے انہیں کیا ہو گیا ہے کہ یہ لوگ (تجھے )دیکھتے ہیں اور پھر بھی دیکھنے کے لئے آنکھیں نہیں رکھتے ۱۲؎ یعنی تیری زندگی کی حیرت انگیز پاکیزگی کو دیکھتے ہوئے یہ کس طرح تیرے دعویٰ میں شک کرتے ہیں۔اس وحی کے موافق مسیح موعود نے اپنے دشمنوں کو ایک چیلنج دیا لیکن کسی کو آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی آپ کے اشد ّترین دشمنوں نے بھی اقرار کیا کہ آپ کی زندگی برابر نیکی اور پاکیزگی سے مملوّ تھی۔آپ کے سب سے بڑے دشمن مولوی محمدحسین بٹالوی جس نے آپ کے خلاف علماء سے فتوی ٰکفرحاصل کرنے کے لئے تمام ہندوستان کا دورہ کیا اور جس نے گورنمنٹ اور لوگوں کو آپ کے خلاف اکسانے میں تمام انسانی اخلاق کو بالائے طاق رکھ دیا اپنے رسالہ اشاعتہ السنّہ میں آپ کے متعلق لکھتا ہے۔’’میں اس کو (یعنی مسیح موعود کو )بچپن سے جانتا ہوں اس نے اپنے وقت سے، مال سے، قلم سے، زبان سے اور اپنے نمونے سے ایسے استقلال سے اسلام کی امداد اور خدمت کی ہے کہ اس کی مثال اس اسلام کی آخری تیرھویں صدی میں ملنی ناممکن ہے ۱۳؎ یہ زندگی اور اخلاق کی بے مثال پاکیزگی آپ کے د عویٰ کی صداقت کی ایک زبردست دلیل ہے۔آپ کے دعویٰ کی صداقت کا ایک اور زبردست ثبوت یہ ہے کہ تمام الہامی کتب اس بات پر متفق ہیں کہ ایک کاذب کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔بائبل کہتی ہے۔’’لیکن وہ نبی جو میرے نام پر کوئی لفظ ایسا کہے گا جو میں نے اسے کہنے کا حکم نہیں دیا۔یا وہ دوسرے خداؤں کے نام پر بات کرے گا تو وہ نبی بھی مارا جائے گا"۔۱۴؎