انوارالعلوم (جلد 8) — Page 408
۴۰۸ دوره یورپ اس کی نئی ترقی یافتہ روح کے لئے جسم کا کام دے گا اس لئے زندگی بعد الموت کے سرور اور غم اس روحانی جسم کے ان قویٰ کے مطابق ہوں گے جو انسان کو اس زندگی میں دیئے جائیں گے۔چوتھا سوال یہ ہے کہ کیا بہشت و دوزخ ابدی ہیں یا ایک مقررہ میعاد تک؟ آپ کا جواب یہ تھا کہ روح کو ابدی زندگی دی جائے گی اور بہشت انسان کے لئے لامحدود ترقی کے دروازے کھولے گا۔لیکن چونکہ انسان کو کامل کرنے کی غرض سے پیدا کیا گیا ہے اس لئے دوزخ کی سزا ابدی نہیں ہو گی کیونکہ اگر دوزخ ابدی ہو تو انسان کی پیدائش کی غرض باطل ہوتی ہے اس لئے کہ بعض لوگ ہمیشہ کے لئے غیر مکمل حالت میں رہیں گے۔اصل بات یہ ہے کہ دوزخ ایک ہسپتال کی مثال ہے جہاں انسان ان روحانی امراض سے صحت یاب کیا جاتا ہے جو اس کو اس دنیا کے اعمال کے نتیجے میں لاحق ہوگئیں اور جن کی وجہ سے وہ بہشت کے سرور کا حظ اٹھانے کے نا قابل ہو گیا تھا۔مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت مختصر یہ کہ مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام کے ہر پہلو کی ان تمام غلطیوں کو دور کردیا جو اس میں داخل ہوگئی تھیں اور دنیا کے سامنے قرآن کی اصل تعلیم پیش کی جس میں کسی نقص کا امکان نہیں ہوسکتا۔اس جگہ جائز طور پر ایک سوال کیا جا سکتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے ذاتی ثبوت کیا ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مسیح موعود کے لئے تمام وہ ثبوت موجود ہیں جن سے گذشتہ انبیاء کی صداقت منوائی جاتی تھی۔اور آپ نے وہ تمام معجزات دکھانے جو پہلے انبیاء نے دکھائے تھے۔ایک نبی کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس کی اپنی زندگی کمال درجہ کی خالص اور پاک ہو۔اس سے میری یہ مراد نہیں کہ صرف لوگوں کو اس کے عیوب کا علم نہ ہو کیونکہ ہزا رہا لوگ ایسے ہوں گے جن کے متعلق کوئی بدی ثابت نہیں کی جاسکتی بلکہ میری مرادایسی نیکی ہے جس کی لوگ شہادت دیں اور جس کی بناء پر وثوق سے نہ صرف یہ اقرار ہو سکے کہ وہ شخص کبھی کسی بدی کا مرتکب نہیں ہوا بلکہ یہ کہ اس سے کسی بدی کا سرزد ہو ناممکن ہی نہیں۔یسوع مسیح اپنی صداقت کے ثبوت میں فرماتے ہیں ’’کون تم میں سے مجھ پر گناہ ثابت کرتا ہے اگر میں سچ کہتا ہوں تو تم مجھ پر ایمان کیوں