انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 407

انوار العلوم جلد ۸ ۴۰۷ دورہ یورپ جب سے انسان پیدا کیا گیا ہے وہ موت کے بعد ایک زندگی کا معتقد چلا آیا حیات بعد الموت ہے اور ہر ایک مذہب نے انسان کی زندگی کا علم دیا ہے۔ پہلا سوال جو اس امر کے متعلق ہے وہ یہ ہے کہ بعد الموت زندگی کس طرح ظہور پذیر ہوگی ؟ اس کا جواب جو مسیح موعود نے دیا تھا کہ زندگی بعد الموت میں انسان مادی جسم کے ساتھ نہیں ہو گا کیونکہ حشر جسم کا نہیں بلکہ روح کا ہوگا۔ مادی جسم صرف اس دنیا کے لئے ہے اور یہاں ہی ختم ہو جائے گا اگلے جہان میں روح کو ایک روحانی جسم دیا جائے گا جو روحانی سرور اور روحانی تکلیف کی جس رکھے گا۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ موت کے بعد زندگی کب شروع ہوگی؟ اس کا جوب جو مسیح موعود نے دیا یہ تھا کہ موت کے بعد زندگی معاموت کے بعد شروع ہو جاتی ہے نہ کہ ہزارہا سال کے وقفہ کے بعد کسی مقررہ دن پر ۔ بلکہ یہ زندگی تین درجوں پر منقسم ہے پہلا درجہ قبر کا درجہ کہلاتا ہے اور اس کی انسان کی زندگی کے اس درجہ سے مشابہت ہے جو کہ رحم میں گذرتی ہے اس درجہ میں روح کئی صوری تبدیلیوں کے نیچے گذرتی ہے اور اس کی نئی طاقتیں اور قومی نشو و نما پانے لگتے ہیں۔ حتی کہ رحم میں ایک بچہ کی طرح جس کی روح ایک خاص حد تک نمو حاصل کر لیتی ہے وہ ایک اور روح میں جگہ پالیتی ہے اور خود اس نئی روح کے لئے جسم کا کام دینے لگ جاتی ہے یا یوں کہو کہ روح ایک نئی پیدائش حاصل کرتی ہے۔ اور دوسرا درجہ شروع ہوتا ہے جس کو حشر (قیامت) کے نام سے پکارا جاتا ہے اور جس کو بچہ کی ولادت سے مشابہت دی جا سکتی ہے اور اس درجہ میں روح دوسری زندگی کی حالتوں کا مشاہدہ کرنے لگتی ہے لیکن ابھی اس کا ان حالتوں کا احساس بچہ کی طرح غیر مکمل ہوتا ہے۔ جب یہ درجہ ختم ہو جاتا ہے تو تیسرا درجہ شروع ہوتا ہے جسے ایک بچہ کی بلوغت سے مشابہت دی جاسکتی ہے۔ اس درجہ میں روح زندگی بعد الموت کی حالتوں کو پورے طور پر محسوس کرنے کے قابل ہو جاتی ہے اور تب وہ بہشت یا دوزخ میں رکھ دی جاتی ہے۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ بهشت و دوزخ کی کیا حقیقت ہے ؟ آپ کا جواب یہ تھا۔ بهشت و دوزخ دونوں ایک وجود کے دو پہلو ہیں : پہلو ہیں جن میں آدمی موت سے قبل کی زندگی مطابق سرور اور غم کا مشاہدہ کرتا ہے۔ یہ مادی نہیں ہیں کیونکہ یہ ہمارے مادی اجسام سے محسوس نہیں کئے جاسکتے نہ ہی انہیں کلی طور پر غیر مادی کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس زندگی میں بھی آدمی ایک روحانی جسم رکھے گا جو