انوارالعلوم (جلد 8) — Page 374
انوار العلوم جلد ۸ ۳۷۴ یاد ایام الفضل" اور پیغام کا مقابلہ کیا کرتا تھا اور ”پیغام صلح کی پالیسی کو ترجیح دیا کرتا تھا۔ وہ داخل ہو گیا۔ اور آج اس کی ایڈیٹری کے عہدہ پر ممتاز ہے ۔ آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ نوجوان میاں غلام نبی صاحب بلا نوی ایڈیٹر الفضل تھے ۔ خدا کی قدرتیں بھی عجیب ہیں۔ سفر کہاں سے شروع ہوا اور کہاں آکر ختم ہوا - وَالْأُمُورُ بِخَوَاتِيمِهَا ۱۹۱۴ء کا دور جو میرے لئے بھی الفضل کے لئے اور ساری گا۔ خدا کے عطا کردہ نئے کارکن جماعت کے لئے بھی نیا دور تھا۔ وہ تو غالبا بہتوں کو یاد ہو اس دور میں اللہ تعالی نے مسیح موعود علیہ السلام کی حقیقت کو دنیا پر واضح طور پر ظاہر کیا۔ ہمیں نئے نئے کارکن عطا کئے ۔ حافظ روشن علی صاحب ، مکرم میر محمد اسحق صاحب عزیزم مرزا بشیر احمد صاحب ، شیخ عبد الرحمن صاحب مصری، چودھری فتح محمد صاحب، ماسٹر محمد الدین صاحب ، صوفی غلام محمد صاحب ماسٹر نیر صاحب اسی دور جدید کی یاد گار ہیں۔ اور کئی پودے جڑیں پکڑ رہے ہیں۔ اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدْ " الفضل" نے بھی اس عرصہ میں کئی رنگ بدلے ہیں۔ اور لفضل کو ترقی مبارک ہو اب وہ پھراپنے پرانے ساز پر چھپنا شروع ہوا ہے۔ خدا تعالی یہ ترقی مبارک کرے۔ ترقی اس لئے کہ گو سائز اس کا پرانا ہو گا مگر اب وہ ہفتہ میں دوبار نکلے گا۔ اور پہلے وہ ہفتہ میں ایک بار نکلتا تھا۔ چیزیں بنتی ہیں اور بگڑتی ہیں۔ آدمی پیدا ہوتے تغیرات سے پاک صرف ایک ہستی ہے ہیں اور مرتے ہیں۔ کام شروع ہوتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں۔ کہیں ترقی ہے کہیں تنزل ہے۔ کہیں خوشی ہے کہیں رنج ہے۔ مگر ایک ہستی ہے جو ان سب تغیرات سے پاک ہے ۔ وہی وارث ہے سب کی۔ جب دوست اور اولاد از ور اولاد انسان کو بھلا دیتے ہیں۔ جب پھینہ کی جگہ خون بہانے والے لوگوں کے دلوں میں ایک ہلکے نقش کی طرح ایام سلف کی یاد باقی رہ جاتی ہے اُس وقت وہی ہستی اس کی یاد کو تازہ رکھتی ہے پس اصل میں وہی وارث ہے۔ کہتے ہیں نیک کام دنیا میں قائم رہتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نیک کام نیک کام کا قیام قائم رہتا ہے مگر یہ غلط ہے کہ دنیا میں قائم رہتا ہے۔ کئی نیک کام ہیں جو دنیا سے غائب ہو گئے اور بھلا دیئے گئے ہیں۔ کئی نبی ہیں جن کے نام تک ہمیں معلوم نہیں ۔ نیک نام