انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 320

انوار العلوم جلد ۸ ۳۲۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کروں گا۔ کیونکہ نا مکمل تشریح سے یہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ صرف اس علم کے متعلق آپ کی تعلیم کا ایک سروپا انسان کے ذہن میں آجائے پھر جس کے دل میں پیاس ہو گی وہ مزید تحقیق کر سکتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ ما بعد الموت حالت کے متعلق بحث و تدقیق کے ساتھ ہی انسان کے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ کیا روح کوئی چیز ہے ؟ اگر ہے تو کیا؟ اس کے متعلق اسلام کا جواب یہ ہے کہ روح فی الواقع ایک چیز ہے جس کے ذریعہ سے انسان ان لطیف علوم کو حاصل کرتا ہے جن کو حواس ظاہری سے انسان حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ خدا اور انسان کے تعلق کا مقام ہے اور اس کے جلال کا تخت گاہ ۔ اسے جسم سے ایسا عجیب تعلق ہے کہ اس کی مثال اور کسی چیز میں نہیں پائی جاتی وہ دماغ کی قوت متفکرہ اور دل کی قوت منفعلہ کے ذریعہ سے انسانی جسم کی ظاہری قوتوں پر اپنا اثر ڈالتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ اس قدر ظاہری حرکات سے متاثر نہیں ہوتی جس قدر کہ افکار اور جذبات سے۔ کیونکہ اس کا علاقہ زیادہ تر انہی دو جگہوں سے ہے۔ سائنس اب تک اس تعلق کو معلوم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی جو روح اور قلب میں ہے مگر صاحب تجریہ لوگ جانتے ہیں کہ روح کا قلب سے ایک بار یک تعلق ہے جہاں سے دماغ کی طرف وہ تعلق بعض مخفی ذرائع سے اس طرح منتقل ہو جاتا ہے جس طرح کہ تیل بتی کے ذریعہ سے اوپر چڑھ جاتا ہے اور دماغ کے اعصاب آگے اسے قبول کر کے اس قابل بناتے ہیں کہ اس میں سے ایسی روشنی پیدا ہو جسے لوگ دیکھ سکیں اور ایک حقیقت کا اقرار کریں۔ یہ روح جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں باہر سے نہیں آتی بلکہ رحم مادر میں جسم انسانی کی پرورش کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیدا ہوتی تی جاتی ہے اور در حقیقت جسم میں ۔ میں سے نکلا ہوا ایک خلاصہ ہے اس کی مثال شراب کی سی ا ہے جس طرح جو یا انگور اور ایسی ہی چیزوں میں سے جب ان کو خاص ترکیب سے سڑایا جائے شراب نکل آتی ہے اسی طرح جسم رحم مادری میں کچھ ایسی کیفیات سے گذرتا ہے کہ اس میں سے ایک لطیف جو ہر نکل آتا ہے جسے روح کہتے ہیں۔ جب یہ جو ہر جسم سے اپنا تعلق کامل کر لیتا ہے تو اس وقت انسانی قلب حرکت کرنے لگتا ہے اور انسان زندہ ہو جاتا ہے جسم سے نکلنے کے بعد اس جو ہر کا وجود ایسا ہی مستقل ہوتا ہے جیسے شراب کا۔ غرض اسلام کے نزدیک روح مخلوق ہے اور جس وقت بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت وہ پیدا ہوتی ہے اور اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسانی روح پیدا ہونے کے بعد ضائع نہیں