انوارالعلوم (جلد 8) — Page 320
۳۲۰ کروں گا۔کیونکہ نامکمل تشریح سے یہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ صرف اس علم کے متعلق آپ کی تعلیم کا ایک سر و پا انسان کے ذہن میں آ جائے پھر جس کے دل میں پیاس ہو گی وہ مزید تحقیق کر سکتا ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ ما بعد الموت کے متعلق بحث و تدقیق کے ساتھ ہی انسان کے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ کیا روح کوئی چیز ہے؟ اگر ہے تو کیا؟ اس کے متعلق اسلام کا جواب یہ ہے کہ روح فی الواقع ایک چیز ہے جس کے ذریعہ سے انسان ان لطیف علوم کو حاصل کرتا ہے جن کو حواس ظاہری سے انسان حاصل نہیں کر سکتا۔وہ خدا اور انسان کے تعلق کا مقام ہے اور اس کے جلال کا تخت گاہ۔اسے جسم سے ایسا عجیب تعلق ہے کہ اسکی مثال اور کسی چیز میں نہیں پائی جاتی وہ دماغ کی قوت متفکرہ اور دل کی قوت منفعلہ کے ذریعہ سے انسانی جسم کی ظاہری قوتوں پر اپنا اثر ڈالتی ہے۔اسی وجہ سے وہ اس قدر ظاہری حرکات سے متاثر نہیں ہوتی جس قدر کہ افکار اور جذبات سے۔کیونکہ اس کا علاقہ زیادہ تر انہی دو جگہوں سے ہے۔سائنس اب تک اس تعلق کو معلوم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی جو روح اور قلب میں ہے مگر صاحب تجربہ لوگ جانتے ہیں کہ روح کا قلب سے ایک باریک تعلق ہے جہاں سے دماغ کی طرف وہ تعلق بعض مخفی ذرائع سے اس طرح منتقل ہو جاتا ہے جس طرح کہ تیل بتی کے ذریعہ سے اوپر چڑھ جاتا ہے اور دماغ کے اعصاب آگے اسے قبول کرکے اس قابل بناتے ہیں کہ اس میں سے ایسی روشنی پیدا ہو جسے لوگ دیکھ سکیں اور ایک حقیقت کا اقرار کریں۔یہ روح جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ کہیں باہر سے نہیں آتی بلکہ رحم مادر میں جسم انسانی کی پرورش کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیدا ہوتی جاتی ہے اور درحقیقت جسم میں سے نکلا ہوا ایک خلاصہ ہے اس کی مثال شراب کی سی ہے جس طرح جَو یا انگور اور ایسی ہی چیزوں میں سے جب ان کو ایک خاص ترکیب سے سڑایا جائے شراب نکل آتی ہے اسی طرح جسم رحم مادری میں کچھ ایسی کیفیات سے گذرتا ہے کہ اس میں سے ایک لطیف جوہر نکل آتا ہے جسے روح کہتے ہیں۔جب یہ جوہر جسم سے اپنا تعلق کامل کر لیتا ہے تو اس وقت انسانی قلب حرکت کرنے لگتا ہے اور انسان زندہ ہو جاتا ہے جسم سے نکلنے کے بعد اس جوہر کا وجود ایسا ہی مستقل ہوتا ہے جیسے شراب کا۔غرض اسلام کے نزدیک روح مخلوق ہے اور جس وقت بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اس وقت وہ پیدا ہوتی ہے اور اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسانی روح پیدا ہونے کے بعد ضائع نہیں