انوارالعلوم (جلد 8) — Page 304
انوار العلوم جلد ۸ مهم ۳۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کر دو بلکہ تم کو یہی خوشی اپنا انعام سمجھنا چاہئے کہ تمہارے کئی بھائی جو تمہاری ہی طرح اس دنیا کے حصہ دار ہیں تمہارے ذریعہ سے پرورش پا رہے ہیں اور خدا تعالیٰ نے تم کو اس درجہ پر پہنچایا ہے کہ تم بھی اس کی طرح اس کی مخلوق کی ربوبیت کرو۔ فرماتا ہے وَأَتُوهُم مِّنْ مَّالِ اللَّهِ الَّذِي أَنكُم ۲۵۲۔ اور دو محتاجوں کو خدا تعالیٰ کے مال سے جو اس اس نے تم کو دیا ہے یعنی بطور امانت تمہارے پاس ہے ورنہ اس میں دوسروں کا حق شامل ہے۔ ان اصول سے آپ لوگ سمجھ گئے ہونگے اسلام کے نزدیک افراد کا مقابلہ نہایت ضروری ہے اور اس مقابلہ کو زندہ رکھنے کے لئے دیانتداری سے وہ لوگ جو وہ لوگ جو کچھ کمائیں ان کے پاس رہنا ضروری ہے ہاں چونکہ اس میں علاوہ ان کی محنت کے دوسرے لوگوں کے حقوق شامل ہیں کیونکہ سب بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے زمین اور اس کے اندر کی چیزیں پیدا کی گئی ہیں اس لئے چاہئے کہ وہ لوگ کچھ رقم بطور حق ملکیت باقی حصہ داروں کو ادا کر دیں۔ مگر جب اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اس مقابلہ کا جاری رکھنا دنیا کی ترقیات کے لئے ضروری ہے تو ساتھ ہی ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں تو پھر مقابلہ کے راستوں کا سب بنی نوع انسان کے لئے کھلا رکھنا بھی نہایت ضروری ہے اور اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ جو امور ایسے ہوں کہ ان کے سبب سے عام مقابلہ بند ہو کر چند محدود لوگوں میں مقابلہ آجائے اور باقی سب لوگ مقابلہ سے خارج کئے جاکر صرف تماشا دیکھنے والے بن جائیں ان کی اصلاح کی جائے۔ اسلام اس سوال کی اہمیت تسلیم کرتا ہے اور اس کا جواب اثبات میں دیتا ہے اور مندرجہ ذیل طریق تجویز کرتا ہے جس سے (1) مقابلہ بھی جاری رہتا ہے ۔ (۲) جولا جو لوگ ترقی کریں اور خاص محنت کریں ان کو ان کی محنت اور کوشش کا پھل بھی مل جاتا ہے اور افراد کی ملکیت قائم رہتی ہے (۳) جس قدر حصہ ان آگے نکل جانے والوں کی ترقی میں باقی لوگوں کی مملو کہ اشیاء یا ان کی محنتوں کا تھا وہ بھی لوگوں کو دلایا جاتا ہے (۴) تمام بنی نوع انسان کے لئے ترقی کا دروازہ کھلا رہتا ہے کسی خاص قوم یا خاص خاندانوں میں محدود نہیں رہتا بلکہ ادنیٰ سے ادنی آدمی کے لئے بھی اعلیٰ سے اعلی ترقی حاصل کرنے کا موقع موجود رہتا ہے اور کئی جماعت کو نسلاً بعد نسل دوسرے لوگوں پر حکومت حاصل نہیں ہوتی (۵) تمام بنی نوع انسان کی ضروریات بھی بلا تکلیف پوری ہوتی رہتی ہیں۔ وہ طریق یہ ہیں۔ اول۔ اسلام اس امر کا مدعی ہے کہ جس قدر اشیاء دنیا میں موجود ہیں ان میں سب بنی نوع