انوارالعلوم (جلد 8) — Page 301
۳۰۱ جان دیتا ہے اس لئے لوگوں کا حق نہیں کہ وہ ان سے جابر بادشاہوں والا سلوک کریں اور جب کہ اسلام نے بادشاہوں کے ان حقوق کو بھی منسوخ کر دیا جو عادتاًور رسماًان کو حاصل تھے تو پھر آقا اور ملازم کے ان غیر منصفانہ تعلقات کو وہ کب جائز رکھ سکتا تھا جو اسلام سے پہلے دنیا میں قائم تھے۔چنانچہ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ آقا اپنے ملازم کو گالی نہ دے اور نہ مار ے بلکہ ملازم تو الگ رہا غلام کے متعلق بھی اسلام یہی حکم دیتا ہے کہ نہ اس کو گالی دی جائے اور نہ مارا جائے (اس جگہ ضمنًا میں اس امر کا بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلامی احکام غلامی کے متعلق بھی لوگوں کو سخت غلط فہمی ہے۔اسلام اس طرح غلامی کو جائز نہیں قرار دیتا جس طرح کہ دوسرے مذہب جائز قرار دیتے ہیں۔اسلامی احکام کی رُو سے کسی قوم میں سے غلام بنانا صرف اسی وقت جائز ہوتا ہے (۱) جبکہ وہ اس لئے کسی دوسری قوم سے لڑے کہ اس سے جبرا اس کانذ ہب چھڑا دے (۲) جبکہ وہ لوگ جن کو غلام بنایا گیا ہو عملا ًاپنی ظالمانہ اور خلاف انسانیت جنگ میں شامل ہوں (۳) جبکہ وہ لوگ جن کو غلام بنایا گیا ہو اس مظلوم قوم کا جس سے وہ اس کی جان سے پیاری چیز مذہب چھڑانا چاہتے تھے خرچ جنگ ادا کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔اگر یہ باتیں نہ ہوں یعنی جنگ دنیاوی ہو یا وہ شخص جس کو غلام بنایا گیا ہے جن میں شامل نہ ہو یا جنگ میں توشامل ہو مگر خرچ جنگ میں سے اپنا حصہ ادا کرنے کے لئے تیار ہو تو ایسے شخص کو غلام بنانے یا غلام رکھنے کو اسلام ایک خطرناک جرم قرار دیتا ہے۔اور ہر ایک شخص خیال کر سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس لئے تلوار اٹھاتا ہے کہ دوسرے سے جبرا ًاس کا مذہب چھڑوا دے جس کی نسبت اس دوسرے شخص کا یہ یقین ہے کہ وہ نہ صرف اس کے اس دنیا میں کام آنے والا ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی ہمیشہ اسی مذہب نے اس کو ابدی ترقیات دلانی ہیں اور پھر جب پکڑا جائے تو اس خرچ کو ادا کرنے سے وہ خود یا اس کی قوم کے لوگ انکار کر دیں جو اس قوم کو کرنا پڑا تھا جس پر ایسا ظالمانہ حملہ کیا گیا تھا تو وہ ضرور اس امر کا مستحق ہے کہ اس کی آزادی اس سے چھین لی جائے۔اسلام در حقیقت ایسے شخص کو جو مذہب بزور شمشیر پھیلانا چاہتا ہے اور اپنی طاقت کے گھمنڈ پر دوسرے کے عقائد میں دخل دینا چاہتا ہے انسانیت سے خارج قرار دیتا ہے اور بنی نوع انسان کے لئے اسے ایک خطرناک وجود قرار دیا ہے اس لئے اس وقت تک کہ اس کے اندر حقیقی ندامت پیدا ہو اسے اس کی آزادی سے محروم کرتا ہے )ایک صحابی فرماتے ہیں کہ ہم سات بھائی تھے ہمارے پاس ایک لونڈی تھی ہم میں سے سب سے چھوٹے بھائی نے اس کے ایک تھپڑ مار دیا۔رسول کریم