انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 299

انوار العلوم جلد ۸ ۲۹۹ احمدیت یعنی حقیقی اسلام وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۲۴۴۔ احکام ضروریہ اور ان کی حکمت کا سکھانا اس رسول کا کام ہے۔ کتاب سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ صرف قرآن کریم مراد ہے کیونکہ قرآن کریم میں علم بیت ، علم نباتات علم تاریخ ، علم الاخلاق تاریخ، علم الاخلاق ، علم طب ، علم حیوانات وغیرہ کا ذکر ہے اور ان کی طرف توجہ دلائی ہے پس کتاب کے سکھانے میں ان علوم کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے رسول کریم فرماتے ہیں ۔ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةً عَلَى كُلِّ مُسلِم ۲۴۵ ، ہر مسلمان پر علم پڑھنا فرض ہے اور آپ ہمیشہ اس امر کا خیال رکھتے تھے ۔ بدر میں جو پڑھے لکھے لوگ قید ہوئے آ۔ آپ نے ان سے معاہدہ کیا کہ بجائے روپیہ دے کر آزاد ہونے کے وہ مسلمان بچوں کو پڑھائیں۔ ایک فرض حکومت اسلام کا یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرے جو ما مدد کرے جو پیشہ تو جانتے ہیں لیکن ان کے پاس کام کرنے کو روپیہ نہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں اسلامی بیت المال میں سے ایک حصہ ایسے لوگوں کے لئے مقرر کیا ہوا ہے۔ ایک فرض یہ ہے کہ وہ اندرونی امن کو قائم رکھے قرآن کریم میں اللہ تعالی اسلامی حکومت کا فرض مقرر کرتا ہے کہ وہ امن کو قائم رکھے اور سخت ندمت ان لوگوں کی بیان کرتا ہے جو لوگ فساد کرتے ہیں اور فرماتا ہے کہ ایسے حاکم جن کی غفلت یا ظلم سے فساد پھیلتا ہے خدا تعالی کے حضور میں سخت مجرم ہیں رسول کریم اللہ نے اسلامی حکومت کا یہ نقشہ کھینچا ہے کہ ایک عورت اکیلی سینکڑوں میل کا سفر کرتی چلی جائے اور اس کو کسی قسم کا خطرہ نہ ہو ۔ ۲۴۶۔ ۔ ایک فرض اس کا یہ مقرر کیا گیا ہے کہ وہ ملک کی خوراک کا انتظام رکھے ابتدائی خلفاء کے زمانہ میں اس امر کا خاص خیال رکھا جاتا تھا اور خلفاء خود خوراک کے جمع رکھنے کا عہد کرتے تھے اور جب غلہ کی کمی ہوتی تھی تو ہر شخص کے لئے پرچی جاری کرتے تھے جس کے ذریعہ ۔ سے وہ سرکاری سٹوروں میں سے غلہ خرید سکے تا ایسا نہ ہو کہ بعض لوگ زیادہ غلہ جمع کر لیں اور باقی محروم رہیں۔ ایک فرض یہ مقرر کیا ہے کہ راستوں کی درستی کا خیال رکھیں تاکہ سفروں اور ادھر سے اُدھر جانے میں آسانی ہو چنانچہ ابتدائی زمانہ اسلام میں جبکہ گاڑیاں نہیں تھیں صرف پیدل چلتے تھے یہ حکم تھا کہ راستے کم سے کم میں فٹ چوڑے بنائے جائیں مگر یہ ایک اصول بتایا گیا ہے کہ راستے چوڑے رکھوانے چاہئیں اس زمانہ میں چونکہ گاڑیاں اور موٹریں بکثرت چلتی ہیں اس لئے آجکل اسی نسبت سے راستوں کو زیادہ چوڑا رکھوانا ضروری ہو گا۔