انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 286

قیمتی ہے لیکن والدین کی محبت اس سے محروم ہوتے ہیں۔جب وہ بالغ ہو جائیں تو اس وقت سے حکومت ان کی عقل اور تجربہ کا خیال رکھنا شروع کرے اور اگر ان میں اپنے مال کی حفاظت کی صلاحیت رکھے اور جس وقت رکھے ان کے مال ان کے سپرد کر دے لیکن اگر ان کی عقل میں فتور معلوم ہو یا عقل میں اس قدر کمزوری معلوم ہو کہ وہ اپنے اموال کی حالت ہی نہیں کر سکتے تو ان کو ان کی جانداو نہ دی جائے بلکہ وہ پرا پر زیر نگرانی رہے اور اس میں سے ان کے کھانے کپڑے وغیرہ کے ضروری اخراجات ادا کئے جایا کریں۔لین دین کے معاملات تمدنی معاملات میں سے ایک اہم شاخ آپس کے لین دین کے تعلقات بھی ہیں کیونکہ ہمیشہ انسان پر ایسے وقت آتے رہے ہیں کہ وہ ان اوقات میں دوسروں سے مدد لینے کا محتاج ہوتا ہے لیکن چونکہ اس کی یہ حالت عارضی ہوتی ہے وہ اس مدد کو واپس بھی کرنا چاہتا ہے اس حالت کا علاج اسلام نے قرض یا رہن بتایا ہے۔لینی چاہئے کہ جو شخص امداد کا محتاج ہو اس کو مالدار لوگ حسب ضرورت اور قابلیت ادائیگی قرض میں خواہ کوئی چیز رکھ کر بابر تھی۔اس کے لئے اسلام نے یہ نظم دیئے ہیں کہ قرض کے معاملے کو کمرے میں لایا جائے اور یہ امر اختیاری نہیں بلکہ اسلام نے اس کو فرضی مقرر کیا ہے کیونکہ تمدن کی خرابی میں بہت کچھ دخل قرضوں کے جھگڑوں کا بھی ہوتا ہے۔اور فرمایا کہ اگر قرض لینے والا ان پڑھ ہے تو وہ دوسرے سے لکھوائے اور اس تقریر پر کم سے کم دو گواہوں کی گواہی ثابت ہو اور یہ بھی ضروری ہے کہ قرض کی ادائیگی کے لئے وقت مقرر کیا جائے کیونکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ اس وجہ سے فساد پڑ جاتا ہے کہ قرض دینے والا سمجھتا ہے کہ تھوڑے ہی دنوں میں روپے واپس مل جائیں گے اور لینے والا خیال کرتا ہے کہ میں جلد کی روپیہ مہیا نہیں کر سکتا۔کچھ فرمایا کہ قرض لینے والے کو چاہئے کہ وقت پر قرض ادا کر دے لیکن اگر ان واقعات کے زریہ سے جو اس کے اختیار میں نہ تھے وہ قرض ادا کرنے پر قادر نہیں تو پھر قرض دینے والے کو چاہنے کہ میعاد کو بوهارے اور اس پر سہولت کا زمانہ آنے تک وصولی کو پیچھے ڈال دے۔لیکن اگر قرض وصول کرنے والے کو خود بھی سخت ضرورت پیش آجائے تو چاہئے کہ مسلمانوں میں سے کوئی شخص اس جگہ کے صاحب مقد ر ست لوگوں سے چندہ جمع کر کے قرضہ ادا کردے۔مگر شرط یہ ہے کہ قرضہ لینے والے کو کوئی بھی مجبوری ہو اس کی کسی غفلت یا شرارت کا دخل نہ ہو اور اگر کوئی قرض لینے والا مرجائے بیاس کے کہ قرض ادا کرے تو اس کی جائیداد میں سے قرض ادا :