انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 284

انوار العلوم جلد ۸ ۲۸۴ احمدیت یعنی حقیقی اسلام شروع ہوتی ہے۔ اگر اس حکم پر لوگ عمل کریں تو نہ قرنطینہ کے قیام کی ضرورت رہتی نہ سرکاری نگرانیوں کی۔ خود بخود ہی وبائیں دب سکتی ہیں۔ مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ جس وقت وہ اپنے ہمسایہ کو مصیبت میں اور مشکل میں دیکھے اور اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے مال سے اسے بقدر ضرورت قرض دے اور اس وقت جبکہ وہ مصیبت میں مبتلاء ہے اس سے یہ حساب نہ کرنے بیٹھے کہ تو مجھے اس کے بدلہ میں کیا دے گا کیونکہ اس کے اخلاق وسیع اور اس کا حوصلہ بلند ہونا چاہئے۔ اسے تکلیف اور دکھ کے اوقات میں لوگوں کا مددگار ہونا چاہئے اور اپنے بھائیوں کی مدد سے اپنا فرض سمجھنا چاہئے۔ اسے محنت سے اپنی روزی کمانی چاہئے نہ کہ صرف روپیہ قرض دے کر اور لوگوں کو ان کی تکلیف کے وقت اپنے قبضہ میں لا کر یا اسراف کی عادت پیدا کر کے۔ مسلم شہری کا ایک یہ بھی فرض ہے کہ وہ قومی اور ملکی فرائض کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار رہے اور اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَا لِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ۲۲۹ ، جو شخص اپنے مال کی حفاظت کے لئے مارا جاتا ہے وہ خدا کے حضور میں مقبول ہے اور قرآن اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ تم لوگ کیوں لڑنے سے انکار کرتے ہو حالانکہ تمہارے بھائی اور بہنیں دوسرے لوگوں کے ظلم کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ ۲۳۰ مسلم شہری کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ کسی کو ہلاک ہوتا دیکھے تو اس کو بچائے اور اگر وہ ایسانہ کرے تو کہا گیا ہے کہ اس پر سخت عذاب اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی نازل ہوگی۔ رسول کریم نے فرمایا کہ جو شخص کسی کو قتل ہوتا ہوا دیکھتا ہے اور خاموش کھڑا رہتا ہے اور اس کے بچانے کے لئے کوشش نہیں کرتا وہ خدا کی لعنت کے نیچے ہے۔ * ۲۳۰ پس ڈوبتوں کو بچانا آگوں کو بجھانا، زلزلوں کانوں کے پھٹنے مکانوں کے گرنے ، ریلوں کے ٹکرانے اور بجلیوں کے گرنے کے وقت لوگوں کی مدد کرنی اور ہر ایک مصیبت میں جس میں اس کی مدد لوگوں کی جان بچا سکتی ہے ان کی جان کو بچانا ایک مسلم کا فرض ہے ورنہ وہ خدا کے حضور میں جوابدہ ہو گا اور وہ خدا کے فضل کو کبھی حاصل نہیں کرے گا۔ اسی طرح ایک مسلم شہری کا فرض ہے کہ وہ اپنے بھائی کی طرف ہنسی کے ساتھ بھی ہتھیار کا منہ نہ کرے۔ یہ حکم رسول کریم ا نے لوہے کے ہتھیاروں کے متعلق دیا ہے ۲۳۱۔ پس