انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 277

انوا را اعلوم جلد ۸ ۲۷۷ احمدیت یعنی حقیقی اسلام لڑکی پیدا ہو اور وہ اس کی اچھی طرح تربیت کرے تو اس کا یہ کام اس کو آگ سے بچانے والا ہوگا۔ ۲۰۳ یعنی لڑکیوں کی اچھی طرح تربیت کرنی اور اُن سے حسن سلوک کے سبب سے اللہ تعالٰی اس سے اچھا معاملہ کرے گا۔ اسی طرح آپ نے فرمایا جس شخص کے ہاں لڑکے ہوں یا لڑکیاں ہوں یا اس کے ذمے بھائیوں یا بہنوں کی پرورش ہو اور وہ ان کو علم سکھائے اور اچھی طرح ان کی ضروریاتِ زندگی کا انتظام کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس شخص کو جنت دے گا ۲۰۴۔ یعنی وہ اس کام کے ذریعہ سے اللہ تعالی کے مزید فضل کو جذب کرے گا نہ یہ کہ خواہ وہ اور کوئی بدی کرے اس کا اثر اس کی روحانیت پر کوئی نہ ہو گا۔ اسی طرح فرمایا جس کے گھر لڑکی ہو اور وہ نہ اسے قتل کرے نہ اسے ذلیل کر کے رکھے نہ لڑکوں کو اس پر فضیلت دے تو خدا تعالیٰ اسے جنت دے گا۔ اولاد کی صحت کا خیال رکھنے کا خاص حکم دیا ہے رسول کریم اللہ فرماتے ہیں اے لوگو ! اپنے بچوں کو مخفی طور پر قتل نہ کرو ۲۰۵، کیونکہ مرد کا عورت سے د کا عورت سے ایام رضاعت میں ملنا جو الی ملنا جوانی میں جاکر بچے کے قومی کو نقصان و ن دیتا ہے یعنی ان دنوں میں اس کا اثر خاص طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس ارشاد سے ایک عام قانون بچہ کی صحت کے خیال کا نکلتا ہے کیونکہ اس غرض کے لئے اگر شہوات طبعیہ کو روکنا پسند کیا گیا ہے تو دوسری قربانیاں تو اس سے ادنی ہی ہیں۔ اہلی زندگی میں ایک سوال ورثہ کا ہے اس میں اسلام نے ایسی مکمل تعلیم دی ہے کہ تمام غیر متعصب لوگ خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں اس کی خوبی اور اس کی حکمت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اول تو اسلام نے ورثہ کے معاملہ میں عورتوں کو بھی حصہ دار مقرر کیا ہے دوسرے والدین کو حصہ دار مقرر کیا ہے سوم خاوند اور بیوی کو حصہ کو حصہ دار مقرر کیا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ رشتہ دار عقلاً ضرو ر وارث ہونے چاہئیں۔ علاوہ مذکورہ بالا ہدایتوں کے شریعت اسلام حکم دیتی ہے کہ وارثوں کو ان کے ورثہ سے محروم نہ کیا جائے۔ پس کوئی شخص اپنے مال ہے وارثوں کو محروم نہیں کر سکتا ہاں مرنے والے کو یہ حق دیا ہے کہ اپنے مال میں سے ایک ثکث وصیت کر دے اس سے زیادہ مال وصیت کرنے کا کسی کو حق نہیں کیونکہ اس سے وارثوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ حکم ہے کہ وصیت وارث کے حق میں نہیں کی جاسکتی وارثوں کو وہی حصہ ملے گا جو ان کے لئے مقرر ہو چکا ہے ۔ غیر وارث کو حصہ دیا جا سکتا ہے ۔ عورت کا حصہ مرد سے اکثر حالتوں میں نصف رکھا ہے جن میں برابر رکھا ہے وہاں خاص