انوارالعلوم (جلد 8) — Page 274
۲۷۴ دعویٰ حق بجانب ہے تو حکمًا خاوند سے اس کو الگ کر دے۔جدائی کے متعلق یہ احکام ہیں کہ اگر خاوند نے کوئی جائداد عورت کو دی ہوئی ہے تو اگر طلاق اس کی طرف سے ہے تو وہ اپنے دئیے ہوئے مال کو بیوی سے واپس نہیں لے سکتا اور اگر حَکم طلاق کا فیصلہ کریں اور ان کے نزدیک قصور عورت کا ہو تو وہ اس سے ایک حصہ مال کا خاوند کو واپس دلا سکتے ہیں اور اگر عورت خود الگ ہونا چاہے تو قاضی اس سے ایسی کوئی جائداد جو خاوند نے اس کو دی تھی اور وہ اب تک موجود ہے خاوند کو واپس دلا دے گا۔طلاق کی صورت میں جب تک مدت طلاق نہ گزر جائے خرچ اور مکان خاوند کے ذمہ ہو گا۔عورت کے حقوق کو محفوظ کرنے کے لئے یہ بھی شرط لگا دی کہ اس کے رشتہ دار نکاح سے پہلے کوئی رقم نکاح کی شرط میں نہیں لے سکتے تا ایسا نہ ہو کہ عورتوں کے نکاح کے متعلق جو ان کو منظوری کا حق دیا گیا ہے وہ اس کو ناجائز طور پر استعمال کریں۔چونکہ کئی مجبوریاں ایسی پیش آ جاتی ہیں جیسے بقائے نسل یا بقائے صحت یا ضروریات سیاسی وغیرہ جن میں سے ایک سے زیادہ شادیوں کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے اسلام نے ایک سے زیادہ شادیوں کی بھی اجازت دی ہے مگر شرط یہ ہے کہ بیویوں میں انصاف قائم رکھا جائے۔لباس میں، خوراک میں، جیب خرچ میں، تعلقات و سلوک میں بیویوں سے بالکل یکساں برتاؤ ہو۔باری ایک ایک عورت کے پاس خاوند رہے اور اگر ایسا نہ کرے تو رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ اس کا حال ایسا ہی ہو گا کہ گویا وہ آدھے دھڑ کے ساتھ اٹھا ہے۔کثرت ازدواج پر عام طور پر اعتراض کیا جاتا ہے اور اسی طرح طلاق پر، لیکن عجیب بات ہے کہ مغرب طلاق کی وجہ سے خدا کے مقدسوں کو پانچ چھ سو سال گالیاں دینے کے بعد اس بات کا قائل ہو رہا ہے کہ طلاق کی بھی کوئی صورت ضرور ہونی چاہئے کیونکہ اس کے بغیر ملک کا تمدن برباد ہو رہا ہے۔کاش کہ وہ پہلے ہی سوچتا اور خدا کے برگزیدوں پر اعتراض کا خنجر نہ چلاتا اور کم سے کم بد کلامی نہ اختیار کرتا تا آج کی شرمندگی کا دن اسے میسر نہ آتا مگر افسوس ہے کہ یورپ اب بھی اسلام کے قانون کو جس میں سب پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے ایک طرف طلاق کو جس قدر ہو سکے روکا گیا ہے اور دوسری طرف آخری علاج کے طور پر اس کی اجازت بھی دی گئی ہے اختیار نہیں کرنا چاہتا اور خدا کی بات کو چھوڑ کر خود نئے قوانین بنانا چاہتا ہے جس کا نتیجہ ابھی سے خراب نکلنا شروع ہو گیا ہے اور طلاق کی حد سے بڑھی ہوئی آزادی سے نکاح کا وہ تقدس جو اہلی