انوارالعلوم (جلد 8) — Page 264
۲۶۴ انسان حسن کو دیکھتا ہے یا حسن کی تعریف سنتا ہے یا خوبصورت آواز سنتا ہے یا ایک نرم اور ملائم جسم کو چھوتا ہے تو اگر وہ حسن یا اس کا ذکر یا آواز یا جسم اس کی خواہش کے مطابق ہوتا ہے تو اس کو اس کی طرف رغبت پیدا ہو جاتی ہے اور نتیجہ وہ انتہائی قرب ہوتا ہے جسے کُل دنیا کی عقلوں نے اخلاق اور سوسائٹی کے لئے ایک خطرناک زہر قرار دیا ہے پس اسلام نے اس دروازہ کو بند کرنے کے لئے حکم دیا ہے قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ () وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (النور:31-32) مومنوں کو کہہ دے اپنی آنکھوں کو نیچا رکھا رکیں اور ان تمام راستوں کی جن سے بدی کا خیال داخل ہوتا ہے حفاظت کیا کریں۔یہ ان کے لئے بہت ہی نیکی پیدا کرنے کا موجب ہو گا۔اللہ تعالیٰٰ اس کو خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔اسی طرح مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھوں کو نیچا رکھیں اور تمام ان راستوں کو جن سے بدی کا خیال داخل ہوتا ہے محفوظ رکھیں اور اپنی زنیت کو لوگوں پر ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ خود بخود ظاہر ہو اور چاہئے کہ اپنی گردن سر اور منہ کو کپڑے سے ڈھانکیں اور اپنی زینت کو سوائے اپنے خاوندوں یا اپنے باپ دادوں یا اپنے خاوندوں کے باپ دادوں یا اپنی اولاد یا ااولاد کی اولاد یا اپنے خاوندوں کی اولاد یا ان کی اولاد یا اپنے بہائیوں یا اپنے بہائیوں کی اولاد یا بہنوں کی اولاد یا عورتوں یا غلاموں یا ایسے ملازم مردوں کے جو بالکل بوڑھے ہیں یا جن میں شہوانی مادے نہیں پائے جاتے۔یا بچوں کے جو ابھی تک بقائے نسل کے تعلقات سے واقف نہیں کسی پر ظاہر نہ کریں اور چاہئے کہ ایسے طور پر پیر نہ ماریں کہ ان کی مخفی زینت اس سے ظاہر ہو اور اے مومنو! تم سب لوگ اللہ تعالیٰٰ کی طرف توجہ کرو تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔