انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 263

۲۶۳ ہے کہ فلاں کام نیک ہے یا فلاں بد اس کا فیصلہ عقل کرتی ہے اور عقل کے فیصلوں کی بنیاد ان علوم پر ہوتی ہے جو انسان اپنے حواس کی معرفت حاصل کرتا ہے۔پس اگر ان خارجی اثرات کے قبول کرنے میں انسان غلطی کر بیٹھے گا تو لازماً وہ نیکی او ربدی کی تعریف میں بھی غلطی کرے گا اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کی ضمیر بھی دھوکا کھائے گی اور چونکہ وہ نیک کاموں کو بد سمجھے گی ان پر اسے ملامت کرے گی اور چونکہ بد کو نیک سمجھے گی ان پر اس کی تعریف کرے گی۔پس یہ ضروری ہے کہ ان بد اثرات کو جنہیں انسان قبول کرتا ہے روکا یا کم کیا جائے۔اسی طرح جو فوری جوش انسان کو بدی کا پیدا ہوتا ہے اس کا محرک بیرونی ہوتا ہے اس کا روکنا بھی ضروری ہے کیونکہ اگر وہ رک جائے تو پھر انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے۔مثلاً ایک شخص شراب پیتا ہے وہ اسی وقت بے تاب ہوتا ہے جب لوگوں کو شراب پیتے ہوئے دیکھتا ہے یا ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو شراب کے پینے یا رکھنے میں مستعمل ہوتی ہیں یا ان وقتوں پر اسے اس کا خیال آتا ہے جن وقتوں میں وہ شراب پیا کرتا تھا۔اب اگر ایک شخص کو ایسی جگہوں سے الگ رکھا جائے اور ان چیزوں کو جو اسے شراب کی یاد دلائیں اس کے سامنے سے دور رکھا جائے تو یقیناً کچھ مدت میں اس کی عادت جاتی رہے اور یہ اپنے نفس پر قابو پا لے گا۔اسلام نے اس حقیقت کو اپنے احکام میں مدنظر رکھ کر ایسے احکام دئیے ہیں جن سے ان راستوں کو بند کر دیا ہے جن سے بدی یا بدی کا خیال پیدا ہوتا ہے۔مگر تعجب ہے کہ ایسا علم النفس کامسئلہ جس کے پیش کرنے سے اسلام نے دنیا پر اپنے احسانات میں مزید اضافہ کیا ہے لوگوں کی مخالفت کے بڑھانے کا سب سے بڑا آلہ ثابت ہوا ہے اور وہ لوگ بھی اس کی حقیقت کو ابھی نہیں سمجھے جو علم دوست اور سچائی کے متلاشی ہیں۔ان تمام تعلیمات کابیان کرنا جن سے اسلام نے گناہ کے دروازوں کو بند کیا ہے مشکل امر ہے مگر میں چند مثالیں اس کی پیش کرتا ہوں۔پہلی مثال اس قسم کے احکام کی وہ احکام ہیں جو اسلام نے عفت کے قیام کے لئے دئیے ہیں چنانچہ اسلام صرف دوسرے مذاہب کی طرح یہ نہیں کہتا کہ تو زنا نہ کر کیونکہ زنا نہ کر کوئی ایسا حکم نہیں جس کے سننے کے ہم محتاج ہیں۔سوال یہ ہے کہ کس طرح انسان زنا سے بچے؟ اسلام اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ تو اس گناہ کے دروازے بند کر کےا س سے بچ سکتا ہے اور وہ دروازے آنکھ، کان اور جلد ہیں، کیونکہ زنا کی تحریک انسان کو انہی دروازوں سے ہوتی ہے۔جب کوئی