انوارالعلوم (جلد 8) — Page 250
انوار العلوم جلد ۸ ۲۵۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام سامان کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے یعنی تم حسد تو اس لئے کرتے ہو کہ فلاں شخص کو مجھ سے زیادہ سکھ کیوں ہے؟ لیکن اس ذریعہ سے تم اپنے پہلے مسکھ کو بھی برباد کر لیتے ہو اور اپنے آپ کو اور دکھ میں ڈالتے ہو۔ پھر اس کام کا فائدہ کیا جو تم کو اور تکلیف میں ڈال دیتا ہے۔ لوگوں کو حقیر جاننے کے متعلق فرماتا ہے۔ لا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَلَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُم ١٧٥۔ ایک قوم دوسری قوم کو حقیر نہ جانے کیونکہ زمانہ بدلتا رہتا ہے آج ایک قوم بڑی ہوتی ہے تو کل دوسری بڑھ جاتی ہے۔ آج ایک خاندان ترقی پر ہوتا ہے تو کل دوسرا ترقی کر جاتا ہے۔ اگر اس طرح ایک قوم دوسری قوم کو حقیر جانے گی تو نتیجہ یہ ہو گا کہ جب وہ بر سر حکومت آئے گی بوجہ پچھلے اشتعال کے پہلی قوم کو ذلیل کرنے کی کوشش کرے گی اور یہ ایک عجیب سلسلہ فساد کا پیدا ہو تا چلا جائے گا حالانکہ جس فعل کا یہ نتیجہ نکلے گا وہ بالکل بے فائدہ ہے کیونکہ جب ترقی کا میدان بدلتا رہتا ہے تو ایک قوم کو کیا حق ہے کہ دوسروں کو حقیر سمجھے۔ زنا کے متعلق فرماتا ہے إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلاً ۱۷۲، اول تو یہ فعل فحش ہے یعنی اس سے دل میں ناپا کی پیدا ہوتی ہے کیونکہ جرم کا احساس اور چوری کا خیال دل میں پیدا ہوتا ہے دوسرے یہ اس مقصود کے حصول کے لئے جس کے واسطے عورت اور مرد کے تعلقات قائم کئے جاتے ہیں غلط راستہ ہے کیونکہ شہوت کی اصل غرض تو بقائے نسل کی غرض کو پورا کرنا ہے۔ چونکہ نسل کو محفوظ رکھنا ضروری ہے اس لئے یہ خواہش انسان میں پیدا کی گئی ہے جو اسے اصل مقصود کی طرف مائل کرتی رہتی ہے اور ناجائز تعلقات سے تو اصل غرض برباد ہو جائے گی کیونکہ نسل محفوظ نہیں رہے گی یا مشتبہ ہو جائے گی۔ پس اس راستہ سے تو اصل مقصد نہیں مل سکتا اور اگر کبھی مل بھی جائے تو سیدھے راستہ کو ترک کر کے ٹیڑھا راستہ انسان کیوں اختیار کرے۔ بخل کے متعلق فرماتا ہے فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ وَمَنْ يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهِ ۱۷۷۔ یعنی بعض لوگ تم میں بخل کے مرتکب ہوتے ہیں حالانکہ بخل کا کوئی فائدہ نہیں ہو تا بلکہ جو بخل کرتا ہے اس کا ضرر اور نقصان اسی کی جان کو پہنچتا ہے یعنی نہ وہ اچھی غذا کھاتا ہے نہ اچھا لباس پہنتا ہے نہ عمدہ مکان میں رہتا ہے روپیہ جمع کرتا چلا جاتا ہے جس سے سوائے روپیہ کی حفاظت کی فکر کے اسے فائدہ کوئی نہیں ہوتا واقع میں اگر غور کیا جائے تو جو لوگ بخیل ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اپنی جان کو ہی دکھ میں ڈالتے ہیں اور ان کا روپیہ خود ان ہی کے لئے وبال ہوتا ہے۔