انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 248

۲۴۸ نیک اخلاق کو نیک یا بد اخلاق کو بد کہنے کی وجہ اس مسئلہ کے متعلق بھی اسلام کی تعلیم اجمالی اور تفصیلی ہے۔اجمالی تعلیم تو یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات:57) میں نے بڑوں اور چھوٹوں کو نہیں پیدا کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری صفات کواپنے اندر پیدا کریں۔پس اخلاق فاضلہ کے حصول کی پہلی غرض تو یہ ہے کہ اس کے بغیر اس منبع تقدیس سے انسان کو تعلق نہیں ہو سکتا جس کے بغیر انسان کی زندگی زندگی ہی نہیں ہے۔وہ شریر اور بد خلق کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ یہ چاہتاہے کہ لوگ اس کی صفات پاکیزہ کو اپنے اندر پیدا کر کے اس کے سے ہو جائیں تا اس کا قرب حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا(الكهف: 8) ہم نے دنیا میں اعلیٰ سے اعلیٰ چیزیں پیدا کر کے انسان کو اس میں مقرر کیا تاکہ ہم یہ دیکھیں کہ انسانوں میں سے کون زیادہ خوبصورت عمل کرتا ہے یعنی کون کس قدر خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔پس اصل وجہ تو بعض اخلاق کو نیک کہنے کی یہی ہے کہ وہ صفات الٰہیہ کا پَرتَو اپنےا ندر رکھتے ہیں اور بعض اخلاق کو بد کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ صفات الٰہیہ کے مخالف ہیں۔اور اس میں کیا شک ہے کہ جو روشنی سے حصہ نہ لے گا وہ تاریک ہو گا اور جس جس قدر نور سے دور ہو گا اسی قدر ظلمت اس پر طاری ہو گی۔مگر اس اجمالی تعلیم کے علاوہ اسلام نے مختلف اخلاق کے متعلق تفصیلی وجوہ بھی بیان کی ہیں جن سے لوگوں پر ان کے اچھے یا برے ہونے کی حالت کو منکشف کیا ہے تا لوگوں کو نیک اخلاق کی طرف رغبت پیدا ہو اور بد اخلاق کی طرف سے نفرت ہو جن میں سے بعض احکام کا ذکر ذیل میں کیاجاتا ہے۔اعلیٰ اخلاق میں سے میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک خُلق رأفت کا برمحل استعمال ہے جسے عفو کہتے ہیں۔اس خلق کی وجہ علاوہ اوپر بیان کر دہ وجہ کے قرآن کریم یہ بیان فرماتا ہے ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (فصلت:35) جب کوئی شخص تیرے ساتھ بدی کرے اور تجھ پر ظلم کرے اور دکھ دے تو تُو اس کے ساتھ نرمی اور عفو کا برتاؤ کر کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لڑائی کی جڑ کٹ جائے گی اور وہ شخص تیرا گہرا دوست ہو جائے گا۔کیا ہی لطیف اور جوش پیدا کرنے والی وجہ ہے انسان سزا اس لئے دیتا ہے کہ اگر سزا نہ دوں