انوارالعلوم (جلد 8) — Page 247
۲۴۷ حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ اس طریق تعلیم کی وجہ سے کچھ بھی نہیں پڑھے گا۔کچھ اصطلاحات اس کو یاد ہو جائیں گی مگر وہ صرف طوطے کی طرح رٹی ہوئی ہوں گی۔ان کا اثر اس کے دل پر کچھ بھی نہیں ہو گا اور اس کے اخلاق اس کی تعلیم کا نہیں بلکہ اس کے گرد و پیش کا نتیجہ ہوں گے جس میں وہ پرورش پا رہا ہے۔قرآن کریم ترتیبی اور تدریجی تعلیم پر خاص طور پر زور دیتا ہے حتیٰ کہ فرماتا ہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس کی یہ تعلیم نہ ہو کہ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ (آل عمران:80) ہو جاؤ ربانی۔ربانی کہتے ہیں اس شخص کو جو تعلیم دیتے وقت پہلے چھوٹے علوم سکھاتاہے پھر بڑے اور تدریج اور ترتیب کو مدنظر رکھتا ہے۔پس نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی امت کو اس امر کی تعلیم دے کر وہ علاج روحانی کرتے قت لوگوں کے مزاجوں اور لوگوں کی حالتوں کو دیکھ لیں اور ان کی عادتوں اور ایسی رسومات کو جو ان میں راسخ ہو چکی ہیں عمدگی سے چھڑائیں اور ایسے علوم جن سے وہ کورے ہیں آہستگی سے سکھائیں۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یوں مختلف مسائل کا سمجھنا ہر اک شخص کے لئے آسان ہے۔پس سکھانے سے یہ مراد نہیں کہ بعض لوگوں سے بعض علوم کو مخفی رکھے بلکہ سکھانے سے مراد عمل کرانا ہے تاکہ ہر دفعہ ایک قریب کا مقصد سامنے ہو اور ہمت قائم رہے اور ایک دفعہ کی کامیابی دوسری اصلاح کے لئےاور بھی تیار کر دے۔جس طرح کہ سب طالب علم جانتے ہیں کہ تعلیم کا کُل زمانہ کتنا ہے مگر کورسوں اور تدریج اور جماعتوں کی ترتیب کی وجہ سے اور تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد نتیجہ نکلتے رہنے سے ان کی ہمت بڑھتی رہتی ہے اور بوجھ کم معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ محسوس کرتے رہتے ہیں کہ ہم ترقی کر رہے ہیں۔میں بتا چکا ہوں کہ اسلام علاوہ اجمالی تعلیم کے اخلاق کے متعلق ایک تفصیلی تعلیم بھی دیتا ہے اور برے یا نیک خلق یا اقسام خلق کی تقسیم بتاتا ہے جس سے ان کو اختیار کرنے یا چھوڑنے میں آسانی ہو لیکن چونکہ گنجائش اجازت نہیں دیتی میں اس اجمالی ترتیب پر ہی کفایت کرتا ہوں کہ عقلمند کے لئے اسلام کی خصوصیات سے واقف ہونے کے لئے اس قدر بھی کافی ہے۔