انوارالعلوم (جلد 8) — Page 246
۲۴۶ بن کر کہ ۴نیکی تیرا جزو ہو جائے اور رات دن لوگوں کی بہتری کی فکر میں لگا رہ تو یہ بات اس کے لئے کیسی اجنبی اور پھر کیسی مایوس کن ہو گی۔وہ تو اس مقصد کو سن کر ہی گھبرا جائے گا اور مایوس ہو بیٹھے گا۔لیکن اگر ہم اسے یہ کہیں کہ ہر ایک شخص جو نیکی کی طرف قدم اٹھاتا ہے گویا نیکیوں میں شامل ہوتا ہے تُو اگر بدی کو چھوڑ نہیں سکتا تو کم سے کم اس امر کو محسوس کر کہ تُو بدی کر رہا ہے اور اس پر فخر نہ کر تو یہ بات اس کے لئے زیادہ سہل الحصول ہو گی اور وہ بہت مستعدی سے اس کام پر لگ جائے گا اور جب اسکے دل میں گناہوں پر شرم اور ندامت محسوس ہونے لگے تو ہم اسے کہہ سکتے ہیں کہ اس نے ایک درجہ نیکی کا پا لیا کیونکہ بڑی بدیوں کو چھوڑنا بھی ایک نیکی ہے اور اس کی ہمت جو اس تبدیلی سے بہت بڑھ جائے گی اس کی مدد سے ہم اسے آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اور کہیں گے کہ اگر تو ابھی نیکی نہیں کر سکتا تو کم سے کم اپنے اعمال کو بدی سے بچا او رگو دل میں برے خیالات پیدا ہوں مگر ان پر کاربند نہ ہو اور کم سے کم یہ کوشش کر کہ لوگوں کے سامنے تجھ سے افعال بد نہ ہوں۔تاکہ لوگون کو تیرے بد اعمال دیکھ کر جو تکلیف ہوتی ہے وہ نہ ہو۔اور یہ کام اس کے لئے پہلے کام سے آسان ہو گا اور جب وہ اس کام کو بھی پورا کر لے گا تو اس کا حوصلہ اور بھی بڑھ جائے گا اور گو اس کا دل ابھی گندے خیالات کی آماجگاہ ہو گا مگر کیا اس میں کوئی شک ہے کہ ہم اسے بھی نیکی کے ایک درجہ پر قائم کہیں گے کیونکہ وہ نیکی کی طرف قدم مار رہا ہے اور اس نے بدیوں کا بہت سا حصہ چھوڑ دیا ہے۔تب ہم اسے اگلا قدم اٹھانے کی نصیحت کریں گےا ور اسے کہیں گے کہ چاہئے کہ اب تو اپنے دل کو بھی پاک کر اور اس نجات سے بھی بچ۔اور اس میں کیا شک ہے کہ اب اس کے لئے یہ قدم اٹھانا پہلے سے بھی زیادہ آسان ہو گا اور وہ اس کام کو کر لے گا اور اس کا دل اس بچہ کی طرح صاف ہو جائے گا جس نے ابھی ہوش سنبھالا ہے یا اس تصویری آئینہ کی طرح ہو گا جس پر ابھی کوئی نقش نہیں لیا گیا۔تب ہم اسے عدل کا مقام حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائیں گے اور اسی طرح آہستگی کے ساتھ وہ اس مقام پر جا پہنچے گا جو اس کی استعداد اور ہمت کے مطابق ہے۔مگر اس طریق کو چھوڑ دو۔اور تمہاری اصلاح کی ساری سکیم بالکل ملیا میٹ ہو جاتی ہے۔بِلا ترتیب اور بِلا خیال مدارج جو وعظ کیا جائے گا وہ کبھی بھی نیک نتیجہ نہیں نکالے گا۔اس کی مثال یہ ہو گی کہ ہم ایک طالب علم کو جو ابھی الف ب بھی نہیں جانتا ایم اے کا کورس رٹوانا شروع کر دیں یا ویبسٹر (WEBSTER) کی ڈکشنری اس کو حفظ کرانے لگیں اور یہ خیال کریں کہ جب اس کو پڑھ لے گا تو سب ہی کچھ پڑھ لے گا