انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 230

انوار العلوم جلد ۸ ۲۳۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام یہ صورت نقم کی جب تک کہ کسی قانون کے ماتحت نہیں آتی کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے کبھی تو جسے تکلیف پہنچی ہوتی ہے وہ اس شخص کو سزا دینے پر جس سے اسے تکلیف پہنچی ہے قادر ہوتا ہے یا سمجھتا ہے کہ میں قادر ہوں۔ اس وقت تو وہ اسے کسی قسم کی تکلیف پہنچاتا ہے یا پہنچانی چاہتا ہے جس سے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تکلیف دینے والے کے دل کو بھی اسی طرح صدمہ پہنچے جس طرح کہ مجھے پہنچا ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جس نے تکلیف دی تھی وہ زیادہ طاقتور ہوتا ہے یا اس کے عزیز رشتہ دار زیادہ طاقتور ہوتے ہیں یا مصیبت زدہ شخص سمجھتا ہے کہ حقیقی تکلیف پہنچانے کا اثر لوگوں پر اچھا نہیں پڑے گا وہ اسے برا سمجھیں گے یا اور کوئی وجہ ایسی پیدا ہو جاتی ہے کہ یہ اس کو حقیقی ضرر نہیں پہنچا سکتا یا نہیں پہنچانا چاہتا تو یہ اس وقت اپنی زبان سے اس کے خلاف بد کلامی یا عیب چینی کا حربہ استعمال کرتا ہے۔ لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جس شخص سے اس کی مخالفت ہے وہ ایسا طاقتور ہے کہ زبان سے بھی اس کے خلاف کچھ نہیں کہنا چاہتا تو یہ اس سے کلام اور ملاقات ترک کر دیتا ہے اور بعض دفعہ اس قدر سزا کی جرأت بھی نہیں رکھتا تو دل میں اس کی نسبت کینہ رکھتا اور اس کی تکلیف پر خوش ہوتا اور اس کی کامیابیوں پر ناراض ہوتا ہے۔ پس نقم جو طبعی جذبہ ہے اس سے کئی اقسام کے افعال کراتا ہے ان افعال پر عقل کو قابو دے دینا اور آزادی سے اپنا کام کرنے کی اجازت نہ دینی اس کا نام اخلاق ہے اور اس کو عقل کی قید سے آزاد کر دینے اور بے محل استعمال کرنے کا نام بد اخلاقی ہے اس تقاضائے فطرتی کو اخلاق میں تبدیل کرنے کے لئے اسلام مندرجہ ذیل قیود بیان فرماتا ہے۔ عَلَيْكُمُ الدلم اول قید یہ لگاتا ہے کہ فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى جو شخص تم پر ظلم کرتا ہے تم اس کے بدلے میں اتنی ہی سزا اس کو دے سکتے ہو ۔ یہ حکم عام ہے اور ایسے لوگوں کے لئے ہے جو علم اور عقل کے ایسے اعلیٰ درجہ کے مقام پر نہیں پہنچے کہ احکام کی باریکیوں کو سمجھ سکیں۔ جو لوگ ان سے زیادہ سمجھدار ہیں ان کی نسبت مندرجہ ذیل قیود مقرر فرماتا ہے فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَاجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ جو لوگ دوسرے کا گناہ معاف کر دیں اور در آنحالیکہ اس سے اصلاح مد نظر ہو ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اجر ملے گا اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔ یعنی جو لوگ اس وقت معاف کریں جبکہ معافی سے گناہ بڑھتا ہو یا اس وقت سزا دیں جبکہ سزا سے گناہ بڑھتا ہو وہ دونوں ظالم ہونگے اور خدا تعالی