انوارالعلوم (جلد 8) — Page 228
انوارا العلوم جلد ۸ ۲۲۸ احمدیت یعنی حقیقی اسلام طرح جو شخص دل میں لوگوں کے متعلق نیک خیالات رکھتا ہے ان کی بھلائی چاہتا ہے اور ان کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے اگر بوجہ سامان کی کمی یا موقع کے میسر نہ آنے کے ان خیالات کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتا تو نیک اخلاق والا سمجھا جائے گا۔ مگر اس قاعدہ میں ایک استثناء ہے اور وہ یہ کہ جس شخص کے دل میں بد اخلاقی کے خیالات آتے ہیں مثلاً اپنے بھائیوں کی نسبت بدظنی کا خیال پیدا ہوتا ہے یا تکبر کا یا حسد کا یا نفرت کا لیکن یہ شخص اس خیال کو دبا لیتا ہے تو یہ بد اخلاقی نہیں سمجھی جائے گی کیونکہ ایسا شخص در حقیقت بد اخلاقی کا مقابلہ کرتا ہے اور تعریف کا مستحق ہے۔ اسی طرح جس شخص کے دل میں ایک آنی خیال نیکی کا آئے یا آنی طور پر حسن سلوک کی طرف اس کی طبیعت مائل ہو لیکن وہ اس کو بڑھنے نہ دے تو ایسا شخص بھی نیک اخلاق والا نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ جیسا کہ ثابت کیا جا چکا ہے اخلاق وہ ہیں جو ارادے کا نتیجہ ہوں لیکن مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں اچھے یا برے خیالات ارادہ کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ بیرونی اثرات کے نتیجہ میں بلا ارادے کے پیدا ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم اس نکتہ کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے ۔ ۱۴۰ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُ كُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُم ١٣٠ لیکن اللہ تعالیٰ تم کو صرف ان خیالات پر پکڑتا ہے جو ارادے اور فکر کے ماتحت پیدا ہوتے ہیں نہ ان پر جو اچانک پیدا ہو جاتے ہیں اور تم ان کو فوراً دل سے نکال دیتے ہو ۔ رسول کریم اللہ اس کی تشریح یوں فرماتے ہیں کہ بد خیال اچانک پیدا ہو جانے پر جو شخص اس خیال کو نکال دیتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا ایسا شخص نیکی کا کام کرتا ہے اور اجر کا مستحق ہے آپ فرماتے ہیں و من هم بسيئة فلم يعملها كتبها الله عنده حسنة كاملة ۱۴۱۔ اور اگر کسی شخص کے دل میں برا خیال پیدا ہو اور وہ اس کو دبائے اور اس کے مطابق عمل نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ایک پوری نیکی لکھے گا۔ یعنی بد خیالات کے دبانے کی وجہ سے اس کو نیک بدلہ ملے گا۔ اس قسم کا امتیاز اللہ تعالیٰ نے ظاہری اعمال میں بھی مد نظر رکھا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى - الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبِيرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللهم ۱۳۲۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو اچھے بدلے دے گا جو کہ تمام بڑی بدیوں اور چھوٹی بدیوں سے بچتے ہیں گو ایسا ہوتا ہو کہ وہ کسی آنی جوش میں کسی گناہ کی طرف مائل ہو جاتے ہوں مگر فوراً ہی سنبھل کر اپنے قدم پیچھے کی طرف ہٹا لیتے ہوں۔ مطلب یہ کہ آنی یا فوری جوش کے ماتحت یا