انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 220

انوار العلوم جلد ۸ ۲۲۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام مقصد دوم اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ مقصد بھی پہلے مقصد کے تابع ہے کیونکہ جس شخص کو اخلاق خدا تعالی کی کامل معرفت حاصل ہو جا حاصل ہو جاتی ہے وہ بدی کے قریب بھی نہیں جاتا اور جس قدر کوئی شخص بدی میں ملوث ہوتا ہے اسی قدر وہ حجاب میں ہوتا ہے چنانچہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةِ ١٣٠ وہ لوگ جو گناہ کرتے ہیں بوجہ قلت معرفت کے یعنی گناہ کا اصل باعث معرفت کی کمی ہے۔ عقل انسانی بھی قرآن کریم کے اس دعوئی کی تائید کرتی ہے کہ کوئی شخص دانا سمجھتے بوجھتے ہوئے آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتا۔ جسے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے میں زہر ہے وہ اسے کبھی نہیں کھاتا جسے یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں مکان کی چھت یقینا اس وقت گر جائے گی جب وہ اندر داخل ہونے لگے گا وہ کبھی اس میں داخل نہیں ہو گا، جسے معلوم ہے کہ فلاں سوراخ میں سانپ ہے وہ کبھی اس میں ہاتھ نہیں ڈالے گا، جو جانتا ہو گا کہ فلاں غار میں شیر بیٹھا ہے وہ اس میں بلا ہتھیار کے کبھی داخل نہ ہو گا پس جب لوگ آگ اور سانپوں اور شیروں اور زہروں سے اس قدر ڈرتے ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ اگر انکو خدا تعالیٰ کا کامل عرفان ہو اور معلوم ہو کہ سب و کہ سب بدیاں اور بد اخلاقیاں زہروں کا اخلاقیاں زہروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر اور شیروں سانپوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے خطر ناک تو وہ ان کے ارتکاب پر اس قدر دلیری کریں گے کہ گویا وہ ایک لذیذ طعام ہے کہ جن کے کھانے پر ان کی زندگی کا انحصار ہے ؟ اور پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ ارتکاب بدی بوجہ جہالت اور کئی عرفان کے ہے اور جو مذہب عرفان پیدا کر دے گا وہ گویا اپنے ماننے والوں کے لئے اخلاق کامل کے حصول کا دروازہ بھی کھول دے گا۔ مگر چونکہ اس مضمون کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اور اکثر لوگ اس سے دلچسپی رکھتے ہیں اور چونکہ بہت سے لوگ اجمالی نکتہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے بلکہ کسی قدر تشریح کے محتاج ہوتے ہیں میں اختصار کے ساتھ اس مقصد کے متعلق جو اسلام کی تعلیم ہے اس کو بھی بیان کرتا ہوں۔ میں نے ذات باری کے متعلق اسلامی تعلیم بیان کرتے ہوئے توجہ دلائی تھی کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق اجمالی بیانات میں مختلف مذاہب کا اتفاق ہمیں کوئی علمی نفع نہیں دیتا۔ جس امر کی دنیا کو ضرورت ہے وہ اسمائے الہیہ کی تفصیل ہے۔ پس صرف تفصیل میں اتفاق اتفاق کہلا سکتا ہے