انوارالعلوم (جلد 8) — Page 204
۲۰۴ ایک ہی ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ کوئی ایسے لوگ ہوں جو خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے اور اس کی لقاء کا رتبہ حاصل کرنے والے ہوں پھر ان کے وجود میں قدوسیت کی صفات کو جلوہ گر ہوتے ہوئے دیکھیں اور اگر یہ نہ ہو تو ایک طرف خدا تعالیٰ کی صفت قدوسیت مشتبہ رہتی ہے او ردوسری طرف اس امر کا بھی انکار کرنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے کبھی کسی کو قرب حاصل ہوا ہے کیونکہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گلاب کا پھول تھوڑی دیر کپڑوں سے لگا رہے تو تمام کپڑے اس کی خوشبو سے مہک جاتے ہیں کہ ایک گلاب کا پھول تھوڑی دیر کپڑوں سے لگا رہے تو تمام کپڑے اس کی خوشبو سے مہک جاتے ہیں اور ایک معطر انسان کے پاس تھوڑی دیر کوئی بیٹھ جائے تو اس سے بھی خوشبو کی لپٹیں آنے لگتی ہیں تو ہم کس طرح قبول کر سکتے ہیں کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کا مقرب تو بنا مگر اس نے خدا سے کچھ نہ پایا؟ اور اس کی اس خوشبو سے جو درحقیقت سب صفات کی جامع ہے یعنی قدوسیت کورا کا کورا ہی رہا؟ چونکہ یہ امر خلاف عقل ہے اس لئے وہی شخص خدا تعالیٰ کا مقرب سمجھا جا سکتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی قدوسیت کا ثبوت مل سکتا ہے جو خدا سے قدوسیت حاصل کر کے خود قدوس ہو اور اپنی نیکی اور تقویٰ کی وجہ سے دنیا کے لئے نمونہ بنے۔حضرت مسیح موعود کی زندگی کو جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس صفت کے بھی ثابت کرنے والے ہیں۔آپ نے اپنے وجود سے خدا تعالیٰ کی صفت قدوسیت کو روز روشن کی طرح ثابت کر دیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان پر اس صفت کا انعکاس ایسے ہی رنگ میں ہو سکتا ہے جو بشریت کے مناسب حال ہو ورنہ وہ خدا بن جائے گا جو خلاف عقل ہے۔مگر بشریت کے مطابق اس کا انعکاس اس کی شان کو کم نہیں کرتا بلکہ اپنے مقصد کو یعنی صفات باری کو پورے طور پر ثابت کرنے کے کام کو خوب اچھی طرح اد اکرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےاس صفت کو بھی جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اپنے وجود میں پیدا کیا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ دشمن سے دشمن بھی اس امر کا مُقِرّ ہے کہ آپ میں کوئی عیب نہ تھا۔اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے والا ہے کہ موعود جب دنیا میں آتے ہیں تو بوجہ مذہبی مخالفت کے لوگ ان پر کئی قسم کے عیب لگانے لگتے ہیں کیونکہ عداوت انسان کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے اور خوبی کو بھی عیب کر کے دکھاتی ہے پس انبیاء کی زندگی کو جانچتے ہوئے ہمیشہ ان کے دعویٰ سے پہلے کی زندگی کو لینا چاہئے کیونکہ اس وقت تک لوگوں کو ان سے ایسی خاص عداوت نہیں ہوتی کہ تعصب سے بالکل ہی اندھے ہو جائیں پس وہی زندگی ان کی قدوسیت کا معیار ہے۔