انوارالعلوم (جلد 8) — Page 160
انوار العلوم جلد ۸ ۱۶۰ احمدیت یعنی حقیقی اسلام پر حکمت ہیں یعنی ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا، رکوع کرنا ، ہاتھ چھوڑ کر کھڑا ہونا، سجدہ کرنا اور دو زانو بیٹھنا۔ یہ تمام حرکات وہ ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک میں کمال تذلل کے اظہار کے لئے اختیار کی جاتی ہیں۔ بعض ممالک میں لوگ انتہائی ادب کے اظہار کے لئے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں، بعض جگہ ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہوتے ہیں ، مصر کے قدیم لوگ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر انتہائی ادب کا اظہار کیا کرتے تھے ، ہندوستان میں سجدہ کا رواج تھا، یورپ میں گھٹنوں کے بل گرنے کا رواج ہے اسلام نے اپنی عبادت میں ان سب باتوں کو جمع کر لیا ہے ۔ ان سب خوبیوں کے ساتھ یہ خوبیا مل کر کہ نماز کے وقت جس کے لئے عام حکم یہی ہے کہ سب مسلمان مل کر نماز ادا کریں تاکہ اخوت کا جذبہ ترقی کرے ۔ جس وقت بادشاہ اور ایک ادنیٰ مزدور پہلو بہ پہلو ا کٹھے کھڑے ہوتے ہیں تو حقیقی طور پر دل محسوس کرتا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے بناوٹ نہیں۔ ایک ہستی کے سامنے سب لوگ کھڑے ہوئے ہیں جس کے حضور میں ایک بادشاہ بھی اپنی بادشاہت کا خیال بھول جاتا ہے اور ایک معمولی آدمی کے پہلو میں آکر کھڑا ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام نے نماز کی تعلیم لالچ کے طور پر دی ہے کہ خدا تعالی اس طرح ہمیں کچھ دے گا مگر یہ بالکل غلط ہے۔ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے اس خیال کو باطل کیا ہے اور بتایا ہے کہ اسلامی عبادات ایک دنیا دار کی لالچی درخواستوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ ان کی دو بڑی غرضیں ہیں ایک تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکریہ اور ان کا اقرار جو ایک صداقت کا اقرار ہے اور بغیر صداقت کے اقرار کے انسان انسان کہلانے کا مستحق ہی نہیں ہو سکتا۔ دوسرے روحانی ترقی کا حصول۔ چنانچہ ان دونوں باتوں کا ذکر قرآن کریم یوں فرماتا ہے۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ وَاشْكُرُ وإِلِى وَلَا تَكْفُرُونِ ، اے لوگو! میری عبادت کرو تا کہ میں تم کو اپنی ملاقات کا شرف بخشوں اور میری نعمتوں کا شکریہ ادا کرو اور ناشکری نہ کرو یعنی عبادات کا ایک فائدہ تو روحانی وحانی ترقی ہے اور دوسرے احسانات باری تعالیٰ کا شکریہ ۔ ایک دو دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۸۵ اسلامی نماز انسان کو بدیوں اور ناپسند باتوں سے بچاتی ہے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم اللہ سے بعض صحابہ نے پوچھا آپ اس قدر عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " کیا میں خدا تعالی کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ قرآن میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ، نماز کے نماز کے ذریعہ سے دل مطمئن ہوتے ہیں اور وہ عزا عرفان مالتا ۸۷