انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 125

انوار العلوم جلد ۸ ۱۲۵ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاه و مراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ اس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے یہ یقین اور یہ بھروسہ ہرگز اس کو خداتعالی اور عالم آخرت پر نہیں ۔ زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔ حضرت مسیح نے اسی حالت میں یہود کو پایا تھا اور جیسا کہ ضعف ایمان کا خاصہ ہے یہود کی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اب میرے زمانہ میں بھی یہی حالت ہے سو میں بھیجا گیا ہوں کہ تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو ۔ سو یہی افعال میرے وجود کی علت غائی ہیں۔ مجھے بتلایا گیا ہے کہ پھر آسمان زمین کے نزدیک ہو گا بعد اس کے کہ بہت دور ہو گیا تھا سو میں انہی باتوں کا مجدّد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔ ۴۳۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ آپ اس لئے دنیا کی طرف بھیجے گئے کہ تا : " دنیا کو اخلاقی اور اعتقادی اور علمی اور عملی سچائی کی طرف کھینچا جائے اور نیز یہ کہ وہ خاص کشش سے ایسے طور سے کھنچ جائیں کہ ان امور کی بجا آوری میں ان کو ایک قوت حاصل ہو ۔ ۴۴ پھر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ آپ کی اولاد میں سے ایک اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا ۴۵۔ یعنی اس کے ذریعہ سے بہت سی قومیں اور جماعتیں اور ملک جو دوسری قوموں اور جماعتوں یا حکومتوں کے ظلم کے نیچے دبی ہوئی ہو نگی ظلموں سے نجات پائیں گی اور اپنی اپنی قیدوں سے آزاد کی جائیں گی اور خدا تعالیٰ ان کی مشکلات کو دور کر کے ان کو راحت اور آرام کی زندگی نصیب کرے گا۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ آپ کا کام یہ ہے کہ اول تمام قوموں پر اسلام کی سچائی کی حجت پوری کریں ۔ دوم ۔ ” اسلام کو غلطیوں اور الحاقات بے جاسے منزہ کر کے وہ تعلیم جو روح و راستی سے بھری ہوئی ہے خلق اللہ کے سامنے رکھیں ۲۷۔ سوم ۔ ” ایمانی نور کو تمام قوموں کے مستعد ولوں کو بخشیں"۔ ۴۸ ان تمام دعاوی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا کام کامل توحید کی اشاعت اور نیکی اور تقویٰ کا قیام اور دلوں میں خشیت اللہ کا پیدا کرنا اور خدا تعالٰی سے بندوں کا تعلق مضبوط کرنا اور شک اور