انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 124

۱۲۴ کا دریا دلوں کی خشک زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے اپنے کناروں سے اچھل کر بہہ پڑا ہے۔پس مبارک ہے وہ جو اس پانی کو اپنے کھیت میں جمع کرتا ہے اور اِباء اور استکبار سے کام نہیں لیتا اور دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے۔اس امر کے بیان کر چکنے کے بعد کہ احمدی جماعت دوسرے مذاہب یا فرقوں سے اس لئے جدا ہے کہ اس نے ان نشانات کو دیکھ کر جو آخری زمانہ کے مصلح کے لئے بطور علامت بتائے گئے تھے حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوٰۃ و السلام کے دعویٰ کو قبول کر لیا ہے اور وہ اب دوسری قوموں کی طرح کسی اور مصلح کی جو اس زمانہ کے لئے مقدر ہو منتظر نہیں ہے اب میں بتانا چاہتا ہوں کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی آمد کی غرض کیا بتائی ہے؟ آپ فرماتے ہیں " وہ کام جس کے لئے خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ خدا میں اور اس کی مخلوق کے رشتہ میں جو کدورت واقع ہو گئی ہے اس کو دور کر کے محبت اور اخلاص کے تعلق کو دوبارہ قائم کروں اور سچائی کے اظہار سے مذہبی جنگوں کا خاتمہ کر کے صلح کی بنیاد ڈالوں اور وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہو گئی ہیں ان کو ظاہر کر دوں اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاؤں اور خدا کی طاقتیں جو انسان کے اندر داخل ہو کر توجہ یا دعا کے ذریعہ سے نمودار ہوتی ہیں حال کے ذریعہ سے نہ محض مقال سے ان کی کیفیت بیان کروں او ر سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی توحید جو ہر ایک قسم کے شرک کی آمیزش سے خالی ہے جو اب نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگا دوں اور یہ سب کچھ میری قوت سے نہیں ہو گا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہو گا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے۔" "خدا تعالیٰ نے مجھے مطلع کیا ہے تا میں گمراہوں کو متنبہ کروں اور ان کو جو تاریکی میں رہتے ہیں روشنی میں لاؤں۔" "خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا تا میں اس خطرناک حالت کی اصلاح کروں اور لوگوں کو خالص توحید کی راہ بتاؤں چنانچہ میں نے سب کچھ بتا دیا ا ورنیز میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا