انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 123

انوار العلوم جلد ۸ ۱۲۳ احمدیت یعنی حقیقی اسلام سے جہاز گذریں گے ۲۷۔ جو سویز اور پانامہ کی نہروں کی طرف صاف اشارہ ہے ۔ اشارہ ہے۔ پھر لکھا تھا کہ اس وقت کتابیں اور اخبارات کثرت سے شائع ہوں گے ۲۸ ۔ علوم ہیئت کے بہت انکشاف ۲۹ ہونگے ، دریاؤں میں سے نہریں نکالی جائیں گی ۳۰۔ حتی کہ اصل دریا قریباً خشک ہو جائیں گے ، اڑوں کو اڑا دیا جائے گا ۔ سفر کا رواج زیادہ ہو جائے گا ۳۲ زیادہ ہو جائے گا ۔ بعض ممالک کی اصل آبادی تباہ کر دی جائے گی ستی وغیرہ کی وغیرہ کی قدیم رسوم قانونا بند کر دی جائیں گی ۳۳ ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ بہ پیشگوئیاں اس زمانہ میں پوری ہو چکی ہیں۔ یہ یہ سب اسی طرح بتایا گیا تھا کہ یہ موعود دو بیماریوں میں مبتلاء ہو گا ایک دھڑ کے اوپر کے حصہ سے تعلق رکھے گی اور ایک نچلے دھڑ سے ۳۴۔ اور یہ اور یہ کہ اس کا رنگ گندم گوں ہوگا ہو گا سر کے بال سیدھے ہونگے ۳۵۔ اور یہ کہ اس کے کلام میں لکنت ہو گی ۳۶۔ کسانوں کے خاندان میں سے ہو گا ۔ ۔۔ اور وہ بات کرتے وقت ہاتھ کو ران پر مارے گا ۳۸ اور کدعہ : رکدعہ نامی گاؤں سے ظاہر ہو گا ۳۹ مسیحیت اور مہدویت کی دوشانوں کا جامع ہو گا ۔ چنانچہ اسی طرح ہوا۔ آپ کو دوران سر اور ذیا بیطیس کی دو بیماریاں تھیں رنگ گندم گوں اور بال سیدھے تھے اور آپ کے کلام میں خفیف لکنت پائی جاتی تھی اور بات کرتے وقت آپ کو ران پر ہاتھ مارنے کی عادت تھی۔ آپ کسانوں کے خاندان میں سے تھے اور قادیان کے باشندے تھے جسے عوام الناس کادنی کے لفظ سے پکارتے ہیں۔ غرض جب سب پیشگوئیوں پر مجموعی حیثیت سے نظر ڈلیں تو سوائے اس زمانہ کے اور کسی زمانہ پر اور سوائے آپ کے وجود کے اور کسی شخص پر وہ چسپاں نہیں ہوتیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہی زمانہ اس موعود کے ظہور کا ہے جس کی خبر پہلے نبیوں نے دی تھی اور آپ ہی وہ موعود ہیں جن کی انتظار میں صدیوں سے لوگ بیٹھے تھے۔ اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان علامتوں میں سے بہت سی علامتوں کے پورا ہونے سے پہلے بانی سلسلہ احمدیہ نے بذریعہ خاص الہام کے ان کے پورا ہونے کی خبر دی تھی جیسے طاعون کی آمد یو رپ کی جنگ عظیم زار روس کی معزولی اور روس سے آئندہ بادشاہت کا مٹ جانا اور زار روس اور اس کے خاندان کی قابل رحم حالت اور عالمگیر زلزلوں کا آنا انفلوئنزا کا حملہ وغیرہ وغیرہ تو ہمارا یقین اور ایمان اور بھی بڑھ جاتا ہے اور ہم اس امر پر ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اور ہر شخص جو انصاف پسندی سے کام لے گا اور فیصلہ میں جلدی نہ کرے گا بلکہ سوچ کر اور غور کر کے فیصلہ کرے گا اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ خدا تعالٰی نے بانی سلسلہ احمدیہ میں تمام اقوام کی امیدوں کو پورا کر دیا ہے اور اس کی رحمت