انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 116

انوار العلوم جلد ۸ ۱۱۶ احمدیت یعنی حقیقی اسلام ملکی لحاظ سے جماعت احمد یہ ہندوستان کے ہر صوبہ میں ہے کوئی صوبہ ایسا نہیں ہے کہ جہاں اس جماعت کے افراد نہ پائے جاتے ہوں۔ افغانستان کے دونوں حصوں یعنی پشتو بولنے والے اور فارسی بولنے والے دونوں علاقوں میں جماعت موجود ہے۔ ہندوستان کے جنوب کی طرف سیلون برما ملایا سٹریٹس سیٹلمنٹ میں بھی جماعت موجود ہے۔ سیلون سے دو اخبار بھی جماعت کے نکلتے ہیں ایک ملایا میں اور ایک انگریزی میں۔ چین میں تبلیغ کا سلسلہ با قاعدہ نہیں ہے لیکن جیسا کہ ایک ترکی پارلیمنٹ کے ممبر کی ایک کتاب سے جو انہوں نے اپنی سیاحت کے متعلق لکھی ہے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی جماعت ہے گو اندرون ملک کی جماعت کا مرکز سے ابھی تک تعلق قائم نہیں ہوا۔ جزیرہ فلپائن اور سماٹرا کے کچھ لوگ بھی سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں ۔ شمالی اور مغربی ایشیائی علاقوں میں سے ایران ، بخارا، عراق ولایت، موصل عرب اور شام میں جماعت احمد یہ پائی جاتی ہے افریقہ کے علاقوں میں سے مصر، یوگنڈا ، مشرقی افریقہ، زنجبار، جرمنی جزیره ماریشس، نثال (جنوبی امریکہ مراکش، الجزائر، سیرالیون گولڈ کوسٹ (کھانا) اور نائیجریا میں جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔ اور جزیرہ ماریشس، نائیجریا اور گولڈ کوسٹ اور مصر میں باقاعدہ مشن بھی قائم ہیں اور ماریشس سے ایک اخبار سلسلہ کی تائید میں فرانسیسی زبان میں نکلتا ہے۔ یورپ کے علاقوں میں سے اب تک صرف انگلستان اور فرانس میں جماعت ہے اور انگلستان میں مشن بھی دس سال سے قائم ہے۔ امریکہ میں صرف تین سال سے مشن قائم ہوا ہے اور اس وقت یونائیٹڈ سٹیٹس میں ایک ہزار کے قریب آدمی سلسلہ میں داخل ہو چکا ہے۔ اس جگہ سے ایک سہ ماہی رسالہ بھی مشن کی طرف سے نکلتا ہے۔ یونائیٹڈ سٹیٹس کے علاوہ جزیرہ ٹرینیڈاڈ اور جنوبی امریکہ کی ریاست ہائے برازیل اور کو سٹوریکا میں بھی جماعت ہے۔ جزائر میں سے آسٹریلیا اس نعمت عظمی میں حصہ دار ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے کلام کی بناء پر یقین رکھتے ہیں کہ ابھی زیادہ دن نہیں گذریں گے کہ سب دنیا اس نعمت سے حصہ لے گی۔ ہر ایک شخص کے دل میں طبعاً یہ سوال پیدا ہو گا کہ سلسلہ احمدیہ کے امتیازی مسائل اس قدر مذاہب اور سلسلوں کی موجودگی میں سلسلہ احمدیہ کی کیا ضرورت پیش آئی تھی؟ لہذا میں مذہبی امور میں سے سب سے پہلے اس مسئلہ کو لیتا ہوں۔ ہر ایک شخص جو کسی الہامی مذہب سے تعلق رکھتا ہے اس امر پر بھی یقین رکھتا ہے کہ