انوارالعلوم (جلد 8) — Page 105
انوار العلوم جلد ۸ ۱۰۵ اساس الاتحاد ان نقائص کے دور کرنے کے لئے عام طور پر ہمیں مندرجہ ذیل اصول کے ماتحت ایک خاص انتظام ہندوستان کی اقوام کے ساتھ مل کر کرنا چاہئے۔ ہر تین سال کے لئے ایک محکمہ تفتیش تمام اقوام ہند کی طرف سے مقرر کیا جائے جس کا یہ کام ہو کہ بین الاقوامی فسادات کے موقع پر اصل اسباب کو معلوم کرے۔ اور اس کے متعلق اپنی رپورٹ کو فوراً شائع کرے۔ اس جماعت میں ہندو مسلمان، سکھ ، پارسی، ادنی اقوام اور مسیحیوں وغیرہ کے نمائندے ہوں جن کو مندرجہ ذیل طریق سے یا اور کسی احسن طریق سے منتخب کیا جا سکتا ہے۔ دو ثلث نمائندوں کو تو خود ان قوموں کی انجمنیں منتخب کریں اور ایک مث نمائندے تمام اقوام ہند میں سے مذکورہ بالا منتخب شدہ نمائندے منتخب کریں۔ اس انتخاب میں اس امر کا امر کا لحاظ رکھا جائے کہ ہر صوبہ میں اس مجلس کے نمائندے موجود رہیں تاکہ قوم کی نمائندہ جماعت کی اپیل پر فوراً وہ مقام ضرورت پر پہنچ کر واقعہ کی تفتیش کریں اس جماعت مفتشہ کے لئے یہ ضروری ہونا چاہئے کہ با قاعدہ تفتیش کرے دونوں فریق کو اپنے وکلاء (جن کے لئے یہ شرط نہیں کہ قانونی معنوں میں وکیل ہوں) اور گواہ پیش کرنے کا اور دونوں طرف کے گواہوں پر جرح کا موقع دے اور مفصل بیانات و جرح لکھ کر با دلیل فیصلہ لکھے ۔ اس جماعت کو بہ رضامندی فریقین صلح کرانے کا بھی حق ہونا چاہئے اس صورت میں اس کو مفصل تحقیقات کرنے کی ضرورت نہ ہوگی اس انتظام کی تفصیل اسی طرح طے کی جا سکتی ہے کہ ہر وقت فساد کے موقع پر ایک قابل اعتماد جماعت تفتیش کے لئے جاسکے اور چونکہ یہ لوگ اختلاف کی صورت کے پیدا ہونے سے پہلے مقرر ہو چکے ہوں گے اس لئے ان لوگوں پر لوگ اعتبار بھی کریں گے اور یہ خود بھی تعصب سے بہت حد تک محفوظ ہونگے اور جھگڑوں کے منانے یا ذمہ داریوں کے قائم کرنے میں بہت ممد ہونگے ۔ اگر صلح نہ ہو اور تحقیقات کی بناء پر ایک فریق پر ظلم ثابت ہو جائے تو اس صورت میں اس فریق کے ہم قوموں یا ہم مذہبوں کا فرض ہو گا کہ وہ اس کی ہمدردی سے باز رہیں اور اس کو مجبور کریں کہ وہ اپنے ظلم کی تلافی کرے اور اگر ظالم ایسا نہ کرے تو اسے تمدنی سزا دیں۔ اور اگر کوئی قوم اپنے ہم قوم ظالم سے ایسا معاملہ نہ کرے تو سمجھا جائے گا کہ اس قوم نے غداری کی ہے اور معاہدہ کو تو ڑ دیا ہے۔ جس وقت تک کہ ملک میں یہ روح نہ پیدا ہو جائے کہ ظالم کی حمایت سے اجتناب کیا جائے