انوارالعلوم (جلد 8) — Page 102
۱۰۲ صورتوں میں سمجھی جانی چاہئیں۔نیابت مجالس کا سوال خواہ مرکزی ہوں یا مقامی وہ تو اس طرح آسانی سے حل ہو سکتا ہے لیکن ملازمتوں کے متعلق حقوق کا سوال زیادہ پیچیدہ ہے میرے نزدیک اس سوال کا کوئی ایساحل نہیں نکل سکتا جو اس سوال کو معقول طور پر حل کردے کیونکہ ملازمتوں کا سوال سودو سو آدمیوں کا سوال نہیں بلکہ لاکھوں آدمیوں کا سوال ہے جس میں کام کی قابلیت کا بھی بہت حد تک دخل ہے مگر فتنہ کے دور کرنے کے لئے میرے نزدیک اگر مذکورہ بالا اصول کے مطابق اس کو بھی حل کیا جائے تو ایک حد تک اس سے مشکل رفع ہو سکتی ہے۔لینی ہر قوم کو اس کی تعداد کے مطابق ملازمتوں سے حصہ دیا جائے مگر ایسی پابندی نہ کی جائے کہ تھوڑابہت فرق بھی نہ ہو۔اگر کسی قوم کے حقوق میں کسی وقت دس پندرہ فی صدی کا فرق پڑ جائے تو اس کا خیال نہیں کرنا چاہئے ہاں یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی قوم مستقل طور پر اس قسم کے فرق اپنے حق میں پیدا کرتی چلی جائے۔جس جس صوبہ میں جو قومیں ملازمتوں پر زیادہ قابض ہیں ان کی بھرتی انہی اصول کے ماتحت جو امپیریل سروس میں انگریزوں کی بھرتی کو کم کرنے کے لئے تجویز کئے گئے ہیں کم کر کے دوسری اقوام کو اس وقت تک بڑھایا جائے کہ وہ اپنے جائز حق پر قابض ہو جائیں۔اسی طرح تعلیمی اخراجات میں بھی ان قوموں کو زیا دہ حصہ دیا جائے تو تعلیم میں پیچھے ہیں اور چاہئے کہ ترقی یافتہ قومیں اس کو خوشی سے قبول کریں۔لیکن ممکن ہے کہ کبھی یہ سوال پیدا ہو جائے کہ کسی خاص کام کے لئے کسی قوم کے آدمی بالکل میّسریہ نہیں آتے یا کم میسّر آتے ہیں اگر ایسا ہو تو اس قوم کی مجلس محافظہ حقوق کو موقع دیا جانا چاہئے کہ اگر وہ آدمی مہیا کر سکتی ہو تو کر دے۔لیاقت کے معیار کے لئے یہ کافی ہو نا چاہئے کہ امیدوار اس امتحان میں کامیاب ہو چکا ہو جس امتحان کا پاس کرنا اس کام کے لئے شرط مقرر کیا گیا تھا۔چھوٹی شرط معاہدہ صلح کی یہ ہونی چاہئے کہ ہر ایک قوم کا انتخاب اس کی اپنی قوم کے افراد کے ذریعہ سے کیا جائے یعنی نہ صرف یہ شرط ہو کہ ہر ایک قوم کو اس کی تعداد کے مطابق نیابت دی جائے بلکہ یہ بھی شرط ہو کہ ہر قوم کے نمائندے صرف اسی کے ووٹوں سے منتخب کئے جائیں ورنہ طاقتور اور ہوشیار قو میں دوسری اقوام کے ایسے ممبروں کے منتخب کرانے میں کامیاب ہو جائیں کی جو اپنی قوم کا نمائندہ کہلانے کی بجائے دوسری زبردست یا زیادہ تعلیم یافتہ قوم کا نمائندہ