انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 91

۹۱ ایک امراور لیگ کی کارروائیوں میں مد نظر رہنا چاہئے اور وہ یہ کہ کثرت رائے کے فرائض میں یہ امر شامل ہونا چاہئے کہ وہ قلیل التعداد جماعتوں کے نمائندوں کے جائز ادب اور احترام کی حفاظت کرے اور وہ غیر شریفانہ رویہّ جو بعض اوقات پبلک جلسوں میں قلیل التعداد لوگوں کے خلاف برتا جاتا ہے اور ان کی باتیں سننے سے انکار کر دیا جا تا ہے اس کو روکے۔بیشک یورپ کی پارلیمنٹوں میں بھی ایسا ہوتا رہتا ہے کہ ایک جماعت اپنے مخالف خیال کے لوگوں کی ہتک کردیتی ہے لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ ان لوگوں کی ہر ایک بات قابل تقلید نہیں ہے وہ اگر یہ حرکات کرتے ہیں تو وہ معذور ہیں ان کے سامنے محمدﷺ کا اسوہ موجود نہیں ہے اور آپ کے سامنے ہے اور ان کے پاس زندہ کتاب موجود نہیں ہے مگر آپ کے پاس ہے۔اب میں دوسرے امر کر لیتا ہوں کہ ہندو مسلم اتحاد کو کیونکر قائم کیا جائے ؟ اس سوال کو حل کرنے سے پہلے ہمیں پہلے ایک اور سوال کو حل کر لینا چاہئے اور دو یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اختلاف کیوں ہے؟ میرے نزدیک اس سوال کے چار جواب ہیں۔۱۔صلح کرتے وقت ان اختلافات کو نہیں دیکھا گیا جو دونوں جماعتوں میں پائے جاتے ہیں اور بجائے اس کے کہ ان اختلافات کے مٹانے یا ان کے بد اثر کو دور کرنے کی کو شش کی جاتی صرف اس جذباتی دلیل کے زور سے صلح کرا دی گئی کہ ہم ایک ملک کے باشندے ہیں ہم میں کوئی اختلاف نہیں ہیں ہمیں صلح کر لینی چاہئے۔چونکہ اختلاف حقیقی تھا اور صلح بناوٹی۔حقیقت آخر بناوٹ پر غالب آگئی اور لوگوں کو اپنے اختلافات نظر آنے لگ گئے۔چونکہ لوگوں کو یہ بتایا گیا تھا که اختلاف نہیں۔نہ یہ کہ اختلاف تو ہے مگر اس اختلاف کے بد اثرات کو روکنے کے لئے تم فلاں فلاں تدابیر کر سکتے ہو اس لئے جب اختلافات لوگوں کو نظر آنے لگے تو وہ آپس میں لڑ پڑے اور انہوں نے خیال کیا کہ شاید یہ اختلاف اب پیدا ہوئے ہیں حالانکہ وہ اختلافات ہمیشہ سے تھے۔۲۔دوسرا نام یہ ہوا کہ صلح کے شوق میں بین الا قوامی تعلقات کی حد بندی نہیں کی گئی۔اس امر کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا کہ ملکی اور غیر ملکی سوال کے ساتھ ایک قومی اور غیر قومی کا سوال بھی لگا ہوا ہے اور فطرت انسانی اس کو نظر انداز نہیں کر سکتی خیال کر لیا گیا کہ جب ہندوستانی سب کو قرار دیا گیا ہے تو اب سب آپس میں نیک سلوک ہی کریں گے اور یہ بات بالکل بھلا دی گئی کہ ہندو بھی تو آپس میں ایک سا سلوک نہیں کرتے اگر ایک ہندو کے سامنے اور