انوارالعلوم (جلد 8) — Page 90
۹۰ صورت میں عملی میدان میں اس کا عد م اور وجود برابر ہو جائے گا میں جو کچھ کرنا چاہئے اور جو کچھ ہم کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ لیگ کے قواعد اس طریق پر بنا ئے جائیں کہ لیگ کے ممبروں کی کثرت رائے کا فیصلہ اس کے ممبروں کے لئے واجب الاطاعت نہ ہو وہ صرف لیگ کے نظام کے لئے واجب الاطاعت ہو یعنی لیگ کی آرگنائزیشن صرف اسی فیصلے پر عملدرآمد کرنے کی کو شش کرے جو لیگ کے ممبروں کی کثرت رائے سے ہوا ہے اور لیگ کے فنڈز صرف انہی تحریکات کی تائید میں خرچ ہوں جن کی تائید کثرت رائے نے کی ہو اور قلیل التعد ادرائے والی جماعت اپنی علیحدہ آرگنائزیشن قائم کر کے اور اپنا الگ سرمایہ جمع کر کے اپنے خیال کی اشاعت کرے جس طرح انگلستان میں مختلف پارٹیوں میں دستور ہے کہ جو پارٹی حکومت پر قابض ہوتی ہے اس کے وہپ کو سرکاری خزانہ سے تنخواہ ملتی ہے اور دوسری پارٹیوں کو اپنے پاس سے اپنے و ہپس کو تنخواہ دینی پڑتی ہے۔اس صورت میں لیگ کی آرگنائزیشن پر وہی لوگ قابض ہو سکیں گے جو اس کے اندر کثرت رائے رکھیں گے اور اس کے عہدہ داروں کے لئے لازمی ہو گا کہ یا تو وہ اپنے آپ کو کثرت رائے کے تابع کریں اور عملاًکثرت رائے کے منشاء کے پورا کرنے پر آمادگی ظاہر کریں یا پھر اپنے عہدہ سے الگ ہو جائیں۔مگر یہ ضروری ہوگا کہ ایک کا ایک مستقل عملہ ہو جو اپنے آپ کو بالکل غیر جانبدار رکھے لیگ کی سیاست میں بالکل حصہ نہ لے جو نقطہ نگاہ بھی کسی وقت لیگ کی کثرت رائے کو اپنے ساتھ متفق کرلے وہ عملہ اس کی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے۔اگر لیگ ان اصولوں پر قائم ہو تو کسی جماعت کو بھی اس میں شمولیت میں عذر نہ ہو گا۔باغیانہ خیالات کی حد کو پہنچے ہوئے لوگوں سے لے کر گورنمنٹ کی خوشامد کرنے والے لوگوں تک سب اس میں شامل ہو سکتے ہیں اور اس کے ذریعے سے مسلمانوں کو اس قدر فائدہ پہنچ سکتا ہے کہ اس کا اندازہ اس وقت پوری طرح نہیں لگایا جاسکتا۔لیگ کے انتظام کے متعلق میں ایک اور بات کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ صرف لیگ کا یہ کام نہیں ہونا چاہئے کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کی غیروں کے مقابلہ میں حفاظت کرے بلکہ اس کا یہ بھی کام ہونا چاہئے کہ وہ مسلمان جماعتوں کی آپس کی سیاسی لڑائیوں اور ایک دوسرے کی حق تلفیوں کا بھی فیصلہ کرے اور مختلف جماعتوں کے باہمی تعلقات کو خوشگوار بنانے کی کو شش کرے تاکہ اختلافات باہمی بڑھ کر خودلیگ کے لئے ہی صدمہ کا موجب نہ ہو جائیں۔