انوارالعلوم (جلد 8) — Page 89
۸۹ رہنے کے اس کا شیدا اس کو حق ہونا چاہئے کہ وہ اس لیگ کا ممبر ہے اور اپنے خیالات سنائے اور دوسروں کے سنے اور اگر اس سے ہو سکے تو دوسرے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنا کر اپنی ہم عقیده جماعت کو پڑھا اور اپنی قّلت کو کثرت سے بدل دے۔جب تک اس اصول پر کام نہ کیا گیا اس وقت تک کبھی صلح نہیں ہو سکتی کبھی امن نہیں ہو سکتا اور کبھی ترقی نہیں ہو سکتی۔اس سے زیادہ تنگ ظرفی اور کیا ہو گی کہ ہم ظاہر تو یہ کریں کہ ہم ایک ایسی انجمن تیار کرتے ہیں جو سب مسلمانوں کی نمائندہ ہو گی لیکن عملاً ہم صرف انہی کو اس کے اندر شامل ہونے کا موقع دیں جو سیاستاً ہما رے ہم خیال ہیں اور دوسروں کو قانوناً یا عملاً تنگ کر کے باہرنکال دیں۔ہمارے ہندو بہائی بھی اسی نکتہ کی پوری حقیقت کو ابھی نہیں سمجھے لیکن پھر بھی مسلمانوں کی نسبت ان میں رواداری زیادہ ہے اور اس سے انہوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔پچھلے دنوں کے اختلافات کے دوران میں ہندو لیڈروں نے جو کانگریس کے نئے طریق کی تائید میں تھے پنڈت مدن موہن مالویہ صاحب کو باوجود اس کے کہ وہ اختلاف رکھتے تھے نہایت ادب کے ساتھ دیکھا ہے لیکن افسوس ہے کہ مسلمانوں نے ان پرانے کارکنوں کو جنہوں نے اپنی عمریں انکی بہتری کے لئے خرچ کر دی تھیں بہت بری طرح سے اپنے سے الگ کر دیا اور ان کو آئنده خد مت کرنے سے محروم کردیا۔ہندوؤں نے اپنی پالیسی سے فائدہ بھی اٹھایا۔ایک طرف کانگریس کے میدان عمل میں بھی وہ معزز رہے اور گورنمنٹ سے بھی انہوں نے ہاتھ کے ساتھ فائدے اٹھائے مگر مسلمانوں نے اپنے پرانے کارکنوں کو ذلیل کر کے ایک اخلاقی جرم کا ارتکاب بھی کیا اور دنیوی فائدہ بھی کوئی نہیں اٹھایا۔یاد رکھنا چاہئے کہ اتحاد کا ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ ہم اختلاف کو سننا اور دیکھنا برداشت کر سکیں اختلاف کو چھیانا یا اختلاف پر قطع تعلق کرلینا بھی سیاست میں کامیاب نہیں کرتا۔سیاسی کامیابی کا ایک ہی گر ہے کہ جب اختلاف ہو تو ہم اس اختلاف کو تسلیم کریں اور دلائل سے اس پر غالب آنے کی کوشش کریں نہ کہ قطع تعلق سے اس کو دبانے کی سعی۔اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ مختلف خیالات کے لوگ آپس میں مل کر کیو نکر کام کر سکتے ہیں؟ میرے نزدیک اس کا حل آسان ہے ہمیں یہ کوشش نہیں کرنی چاہئے کہ ہم ہر ایک کو اپنے خیال کا تابع بنائیں اور نہ ہم اس کو قبول کر سکتے ہیں کہ لیگ بحیثیت لیگ کچھ بھی نہ کرے کیونکہ اس