انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 77

آ ۴۸ ८८ قول الحق انوار العلوم جلد ۸ کردے دے گا ۔ ۔ اور آپ نے کہا اے مولویو! سن رکھو۔ اے گدی نشینو! یاد رکھو اے یور یورپ و امریکہ کی حکومتو اور ایشیا اور جزائر کے باشندو! سمجھ لو کہ گو میں کچھ نہیں مگر ز بر دست اور قادر خدا کا ہتھیار ہوں جو مجھ پر گرے گا چکنا چور ہو جائے گا اور جس پر میں گروں گا اسے میں دوں گا۔ آپ نے یہ کس وقت اور کس حالت میں کہا۔ اس وقت جبکہ ساری دنیا آپ کی مخالف تھی اور آپ اکیلے کھڑے تھے۔ اسماعیلی سلسلہ کا یہ پہلوان اس طرح کھڑا ہوا کہ اس کے ترکش میں تیر نہیں ، سپاہی ساتھ نہیں ، حکومت قبضہ میں نہیں ، مگر باوجود اس کے وہ قوت اور وہ طاقت اس نے دکھائی کہ ان حکومتوں ان دشمنوں اور ان رسول کریم اس کی گدی کے دعوئی پر ناچنے والوں کو گرانا شروع کیا۔ کچھ یہاں سے لئے کچھ وہاں سے کچھ ادھر سے لئے کچھ ادھر سے اور آج کچھ لوگ تو یہ بیٹھے ہیں اور لاکھوں پیچھے ہیں مولویوں نے آپ پر کفر کی تلوار چلائی گالیوں کے تیر برسائے حکومت کو کہا گیا کہ باغی ہے اسے پیس ڈالو لیکن پھر اسی منہ سے ان نابکاروں نے یہ بھی کہا کہ انگریزوں کا جاسوس ہے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کیا کبھی جاسوس بھی باغی ہوتے ہیں۔ یا باغی جاسوس لیکن ان لوگوں کی غرض تو حضرت مرزا صاحب کو نقصان پہنچانا تھی جو ان کے جی میں آیا کہتے چلے گئے۔ انہوں نے حکومت کو اُکسانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا اور رعایا کو بھڑکانے میں بھی کوئی کمی نہ کی اور سب نے آپ کا مقابلہ کیا مگر کون جیتا کیا خدا کا مسیح نہ جیتا اور اس نے جماعت نہ قاء قائم کی؟ ساری دنیا کے تختہ پر آپ کی قائم کردہ ج قائم کردہ جماعت کے مقابلہ کی کوئی جماعت تو دکھاؤ ۔ مسیح موعود کی جماعت وہ ہے کہ اس کی جیبیں خالی ہیں مگر دل بہت وسیع ہیں ۔ جسم کمزور ہیں مگر حوصلے بہت بلند ہیں دنیا کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں مگر خدا کے لئے اور خدا کے دین کے لئے ساری دنیا کے مقابلہ میں کھڑی ہے اور تکلیفیں اٹھا رہی ہے قرآن کریم کی تعلیم کو جاری کرنے اور اس کے مطابق زندگیاں بنانے میں اس قدر کوشاں ہے کہ دشمن بھی بول اٹھے ہیں کہ اگر محمد اللہ کی جماعت کا نمونہ دیکھنا ہو تو وہ احمدی جماعت ہے کہتے ہیں خوبی وہ ہے جس کا دشمن بھی اقرار کرے ۔ غیر احمدیوں - اقرار کرے ۔ غیر احمدیوں کے ایک روزانہ اخبار ” ہمدم " لکھنو نے لکھا تھا کہ احمدیوں میں خدمت دین کا جو ولولہ اور جوش ہے اس کا نمونہ آج سے تیرہ سو سال قبل رسول کریم ﷺ کے ساتھیوں میں ہی مل سکتا ہے اسی طرح اور کئی مخالف اخبارات نے اعتراف کیا ہے کہ اگر کوئی جماعت دین کی خدمت کر رہی ہے تو وہ احمدی جماعت ہے۔ مگر اے مولویو! اور اے جبہ پوشو! تم کوئی ایک ہی تحریر کسی غیر مسلم شخص کی ایسی دکھا دو جس میں یہ لکھا